امت مسلمہ
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوتی کام کی رغبت پیدا نہیں ہوتی۔ دعوت کے کام کے لئے نصح (خیر خواہی) کا جذبہ درکار ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ جذبہ مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔ غیر مسلم قومیں ان کے لئے نفرت کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ پھر وہ ان پر دعوت کا کام کس طرح کر سکتے ہیں، جو سراسر شفقت اور خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام دیا جانے والا کام ہے۔ یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ مزید یہ کہ انسان کے اندر حرص اور ظلم اور اقتدار پسندی جیسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ اس بنا پر اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف شکایت کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں۔ اسی لئے داعی پر لازم ٹہرایا گیا ہے کہ مدعو کی تابل شکایت باتوں پر وہ یک طرفہ طور پر صبر کرے۔ اگر داعی ایسا نہ کرے تو وہ کبھی اپنے مدعو گروہ پر دعوت کا کام انجام نہیں دے سکتا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وجعلنا منهم ائمة يهدون بأمرنا لما صبروا (السجدة (۲۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ہدایت بننے کے لئے صبر کی شرط کو پورا کرنا پڑتا ہے ۔ جو لوگ صبر کی لازمی شرط کو پورا نہ کریں، وہ امام ہدایت بننے کی توفیق پانے سے بھی محروم رہیں گے۔ یہ اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ عین اس وقت جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اقتدار دیا۔ اس نے ان کے لئے اقتصادی ذرائع فراہم کئے۔ اس نے دعوت کے نئے امکانات کھول کر دعوت کے عمل کو آخری حد تک آسان بنا دیا، عین اس وقت مسلمان اپنی مدعو قوموں کی بعض نہ یادتیوں سے رد عمل کا شکار ہو کر ان کے خلاف نفرت و عداوت کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے ۔ دعوت کا عمل انتہائی خیر خواہی کا عمل ہے ، اور جب داعی اپنے مدعو کے لئے خیر خواہی کھو دے تو اس کے بعد وہ اس کے اوپر دعوت کا عمل انجام نہیں دے سکتا۔ یہی حادثہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ مدعو سے نفرت کرنا ایسا ہی ہے جیسے ڈاکٹر اپنے مریض سے نفرت کرنے لگے۔ یا تاجر اپنے گاہکوں سے بیزار ہو جائے۔ ایسا ڈاکٹر اور ایسا تاجر کبھی اپنے کام کو اس طرح انجام نہیں دے سکتا جیسا کہ اسے انجام دینا چاہئے۔ اسی طرح جو داعی اپنے مدعو کے بارہ میں نفرت اور بیزاری میں مبتلا ہو جائے وہ کبھی مدعو کے اوپر اپنی داعیانہ ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتا۔ اسی لئے داعی کو اپنے مدعو کی زیادتیوں پر صبر کا حکم دیا گیا ہے۔ بالفاظ دیگر، شکایتوں اور زیادتیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader