امت مسلمہ
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
کے باوجود داعی کو اپنے مدعو کا ناصح اور خیر خواہ بنے رہنا ہے۔ تاکہ وہ دعوت کی ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے ساتھ انجام دے سکے۔ کرنے کا کام ا۔ آج کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں، خاص طور پر مسلم نوجوانوں کے اندر دعوتی شعور پیدا کیا جائے ۔ مسلم دنیا میں موجودہ زمانہ میں دعوت کا لفظ اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے جیسے کہ وہ مسلمانوں کی قومی جد و جہد کا مندرجہ ہی عنوان ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ دعوت سے مراد یہ ہے کہ اسلام کا مثبت پیغام دوسری قوموں تک پہنچایا جائے۔ یہی امت محمدی ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کی اصل ذمہ داری ہے۔ دعوت کی بنیاد پر جب تک مسلمانوں کے اندر ذہنی انقلاب نہ لایا جائے کوئی حقیقی دعوتی کام نہیں کیا جا سکتا۔ ۲۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان لکھنے والوں نے ہر زبان میں بے شمار کتابیں چھاپی ہیں۔ مگر اسلام کا جدید کتب خانہ اسلام پر سائنٹفک لٹریچر سے تقریباً خالی ہے۔ موجودہ پریس کے دور میں دعوتی کام کرنے لئے وقت کے معیار کے مطابق اسلامی لٹریچر انتہائی ضروری ہے۔ یہ لٹریچر اپنے مضمون اور اپنی زبان دونوں اعتبار سے انتہائی طاقت ور ہونا چاہئے ، ورنہ وہ دعوتی کام میں زیادہ مفید نہیں ہو سکتا۔ ۳۔ قرآن اور منتخب احادیث کے ترجمے ہر زبان میں تیار کر کے شائع کئے جائیں۔ اسی طرح سیرت پر سادہ اور تاریخی انداز میں کتاب تیار کر کے ہر زبان میں چھاپی جائے۔ یہ کام اعلیٰ علیٰ معیار پر ہونا چاہئے۔ اعلیٰ معیار سے کم تر معیار کی کوئی چیز موجودہ زمانہ میں فکری تاثیر پیدا کرنے والی نہیں بن سکتی۔ ۴۔ آج کل ہر مسلم ملک میں اسلام پسند طبقہ ایک سیاسی مہم جاری کئے ہوئے ہے۔ یہ اپنے ملک کے حکمراں افراد سے خفیہ یا علانیہ انداز میں ٹکراؤ ہے۔ اس ٹکراؤ کو اسلامی قانون کے نفاذ کے نام پر جاری کیا گیا ہے۔ مگر یہ نام نہاد اسلامی سیاست دعوت کا عمل جاری کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سیاسی بدعت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جانا چاہئے ۔ ورنہ مسلم ممالک کے قیمتی وسائل ضائع ہوتے رہیں گے۔ وہ دعوت کے کام میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ ۵۔ دوسری چیز جس کو فوراً ختم ہونا چاہئے وہ غیر مسلم اقوام کے خلاف احتجاج اور مطالبات کی سیاست ہے۔ یہ سیاست بھی ساری دنیا میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ یہ غیر مسلم اقوام مسلمانوں کے لئے مدعو کے درجہ میں ہیں۔ مادی مسائل کے عنوان پر ان کے خلاف ایسی مہم چلانا جس سے دونوں گروہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader