Urdu book · کاروانِ ملّت

امت مسلمہ

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نزاع کا ماحول پیدا ہوتا ہو، سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ اس سے دعوت کی فضا ختم ہوتی ہے، اور دعوت کی فضا اتنی اہم چیز ہے کہ اس کو ہر قیمت پر باقی رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ خواہ اس کو قائم کرنے کی خاطر مسلمانوں کو ایک طرفہ طور پر نقصان اٹھانا پڑے۔ ۶- دعوتی کام کے لئے کوئی لگابندھا پروگرام بنانے کی ضرورت نہیں۔ لوگوں کے اندر دعوتی کام کی تڑپ پیدا کر دیجئے ، اس کے بعد لوگ خود ہی اپنے حالات کے مطابق اپنا دعوتی پروگرام بنا لیں گے۔ آخری بات اوپر جو کچھ کہا گیا، اس سے چند باتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں۔ یہ کہ امت مسلمہ کا اصل مشن لوگوں تک آخرت کے پیغام کو پہنچانا ہے۔ جہاں تک اس کے دنیوی مسائل کا تعلق ہے، ان کو براہ راست توجہ کا مرکز بنانا درست نہیں۔ ان کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم نے اصل مشن کو انجام دیا تو ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے کہ تمہارے مسائل براہ راست کوشش کے بغیر حل ہوتے چلے جائیں۔ دوسری بات یہ کہ موجودہ زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے دعوت کے عمل کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ تاہم ان دعوتی امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے انسانوں کی ضرورت ہے۔ سارے امکانات کے باوجود یہ ضرورت باقی رہتی ہے کہ کچھ اہل افراد اٹھیں اور ضروری جدوجہد کر کے ان امکانات کو واقعہ بنا دیں۔ اسلام کے پاس نظریہ ہے، مگر اسلام کے پاس آج مردانِ کار نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں اسلام کا اصل مسئلہ ہے۔ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک ارب ہے۔ مگر یہ تقلیدی انسانوں کی بھیڑ ہے، وہ باشعور انسانوں کا گروہ نہیں۔ آج سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو شعوری معنوں میں مسلمان بنایا جائے ۔ ان کا ایمان ان کے لئے فکری انقلاب کے ہم معنی بن جائے۔ جس دن ایسا ہوگا اسی دن اسلام کی وہ نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے گی جس کا آج زمین و آسمان کو سب سے زیادہ انتظار ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page