دعوت حق
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوتِ حق 1911ء میں اٹلی کی فوجیں سمندر پار کر کے طرابلس (لیبیا) میں داخل ہو گئیں۔ یہاں ان کا قبضہ 1933ء تک باقی رہا۔ یہ خبر جب عالم اسلام میں پھیلی تو لوگوں نے جذباتی تقریریں کیں۔ شاعروں نے اشعار کہے۔ ادیبوں نے پرشور مضامین لکھے۔ وغیرہ مولانا حمید الدین فراہی (1830ء۔ 1930ء) ہندوستان کے ایک خاموش عالم دین تھے۔ مگر طرابلس میں اطالوی فوجوں کے داخلہ کی خبر سن کر وہ بھی بے چین ہو گئے اور انھوں نے ایک عربی نظم کی صورت میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس کا ایک شعر یہ تھا: كيف القرار وقد تنكس أعلامنا بطرابلس (کیسے مجھ کو چین آئے، جب کہ ہمارے جھنڈے طرابلس میں جھک گئے) یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان کس چیز کے لئے تڑپے۔ وہ اس لئے تڑپے کہ موجودہ زمانہ میں ان کا سیاسی جھنڈا گر گیا۔ ان کی قومی عظمت کا مینار ڈھہ گیا۔ دنیوی اعتبار سے انھوں نے اپنے لئے سر بلندی کا مقام کھو دیا۔ یہ نفسیات سراسر خلافِ قرآن اور خلافِ سنت ہے۔ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر یہ دی گئی ہے کہ آپ کو سب سے زیادہ لوگوں کی ہدایت کا غم تھا، حتی کہ اس غم میں آپ اپنے کو ہلاک کئے دے رہے تھے (لعلك باخع نفسك ألا يكونوا مومنين ، الشعراء ۳) مولانا حمید الدین فراہی قرآن کے مفسر تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انھیں اپنی اِس غیر قرآنی نفسیات کا اندازہ نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی بے شمار تفسیریں لکھی گئیں مگر اس کی کوئی دعوتی تفسیر نہیں لکھی گئی۔ قرآن سراسر کتاب دعوت ہے۔ مگر یہی بات قرآن کے تمام مفسروں نے حذف کر رکھی ہے: ہماں ورق کہ سیگشته مدعا این جاست سورة الشعراء کی مذکورہ آیت (لعلك باخع نفسك ألا يكونوا مومنين) کی بابت عام مفسرین یہ کہتے ہیں کہ یہ تسلی کی آیت ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین ایمان نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader