دعوت حق
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
لا رہے تھے تو آپ کو غم ہوا کہ کہیں یہ میری کو تاہی نہ ہو۔ اس لئے آپ کو تسلی دی گئی کہ آپ کو زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ محمد علی الصابونی نے صفوۃ التفاسیر میں مفسرین کی رائے کا خلاصان لفظوں میں نقل کیا ہے : فيه تسلية للرسول عليه السلام حتى لا يحزن ولا يتأثر على عدم إيمانهم سید قطب نے لکھا ہے کہ : ذالك الى تسلية الرسول صلى الله عليه وسلم وتعزيته عن تكذيب المشركين له والقرآن) حالانکہ اس آیت میں دراصل داعی حق کی تصویر ہے۔ اس میں بتا یا گیا ہے کہ داعی اپنے مخاطبین کی ہدایت اور نجات کے لئے کتنا زیادہ بے چین ہوتا ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی تڑپ ہوتی ہے۔ حتی کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ اس غم میں وہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل کوتاہی کیا ہے۔ وہ کو تا ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ہاتھوں اپنا قومی جھنڈا گرائے جانے پر تڑپتے ، مگر وہ لوگوں کے جہنم میں گرنے پر بے چین نہ ہوسکے۔ لیبیا پر جس قوم نے حملہ کیا ، وہ مسلمانوں کے نزدیک ایک " کافر " قوم تھی۔ اپنی ضلالت کے نتیجہ میں وہ جہنم میں جانے والی تھی۔ مگر یہ واقعہ مسلمانوں کو بے چین نہ کر سکا کہ وہ اٹھیں اور ان کو آگ کے راستہ سے ہٹا کر جنت کے راستہ پر ڈالنے کی کوشش کریں۔ مسلمان صرف اس وقت بے چین ہوئے جب کہ یہ گمراہ قوم خود ان کے قومی اور سیاسی وجود کے لئے خطرہ بن گئی۔ پیغمبر اسلام کا نمونہ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ رسالت کا حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا : قم فانذر (اٹھ اور لوگوں کو ڈرا دے) انذار کا لفظ بتاتا ہے کہ آپ کی دعوت کا خاص نشانہ کیا تھا۔ آپ کی دعوت کا خاص نشانہ یہ تھا کہ لوگوں کو زندگی کی اس حقیقت سے باخبر کیا جائے کہ موت کے بعد انھیں اللہ کے سامنے حساب کتاب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ اور اس کے بعد یا ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔ کہ میں جب دعوت عام کا حکم ہوا تو آپ نے لوگوں کو بلا کر صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا۔ جب لوگ اکٹھا ہوگئے تو آپ نے ان کے سامنے ایک مختصر تقریر کی۔ اس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اے لوگو، میں تم کو ایک آنے والے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں (فانی نذیر لکم بین یدى عذاب شديد )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader