تعمیر نو کا مسئلہ
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
کا مطالعہ (A Study of History) جو بارہ ضخیم جلدوں میں ہے، گویا اسی آیت کی تفسیر ہے۔ انگریز مورخ نے اس کتاب میں پوری معلوم تاریخ کا مطالعہ پیش کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہوا ہے کہ جو قومیں چیلنج کی زد میں آئیں وہی قومیں ابھری ہیں اور انہیں نے بڑی بڑی تاریخ بنائی ہے۔ گویا اس دنیا میں جو تاریخی قانون رائج ہے وہ یہ کہ جو قومیں مغلوبیت کا شکار ہوں وہ دوبارہ ابھریں اور غالب آئیں۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے دو مثال لیجئے، ایک اسلامی تاریخ کی، اور دوسری غیر مسلموں کی تاریخ کی۔ تاریخ کی مثال اس سلسلہ میں ایک نمایاں مثال خود اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ملتی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلام کا آغاز ہوا تو اپنے ابتدائی وطن مکہ میں اس کو شدید ترین قسم کے ظلم و زیادتی کا شکار ہونا پڑا۔ مگر اس ظلم و زیادتی نے اسلام کی تحریک کو اور اہل اسلام کی مختصر جماعت کو صرف مظلوم بنا کر نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ مغلوبیت کی اس حالت سے فتح و غلبہ کا ایک نیا دور پیدا ہوا۔ جس گروہ کو اپنے وطن مکہ میں جگہ نہیں ملی تھی اس نے ایک صدی کے اندر تمام عالم میں اپنے لئے ایک ممتاز جگہ حاصل کرلی۔ دوسری مثال یورپ کی مسیحی قوموں کی ہے۔ مسلمانوں نے صلیبی جنگوں (۱۲۹۱- ۱۰۹۵) میں مسیحی قوموں کو شدید ترین شکست دی۔ مگر یہ شکست مغربی قوموں کے مستقبل کا خاتمہ نہ کرسکی۔ شکست کے چند سو سال بعد یہ مسیحی قومیں نئی تہذیب اور نئی طاقت کے ساتھ ابھریں۔ انھوں نے مسلمانوں سمیت تمام اقوام کے اوپر براہ راست یا بالواسطہ طور پر غلبہ حاصل کر لیا۔ یہ غلبہ تا حال جاری اور قائم ہے۔ اذن اللہ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغلوب گروہ ہوں کو دوبارہ غلبہ کا یہ مقام کیسے ملا۔ اس کا سادہ سا جواب صرف ایک لفظ میں چھپا ہوا ہے اور وہ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق اذن اللہ (البقرہ ۲۴۹) ہے۔ یعنی اللہ کا حکم، بالفاظ دیگر، قانون فطرت کی پیروی۔ فطرت کی دنیا میں اللہ تعالی نے یہ قانون جاری کر رکھا ہے کہ کوئی چیز ہمیشہ کے لئے ضائع نہ ہو سکے۔ جب بھی کسی چیز کے ساتھ نقصان کی کوئی صورت پیش آئے تو وہ اپنی کھوئی ہوئی صلاحیت کو دوبارہ حاصل کر کے اپنی سابقہ حیثیت کو از سر نو بحال کر لے۔ یہ اذن اللہ (قانون فطرت) ہے۔ قوموں کے عروج و زوال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader