Urdu book · کاروانِ ملّت

دعوت حق

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ زندگی کے اندیشوں میں جی رہے تھے، آپ نے انھیں یہ پیغام دیا کہ تمھارے لئے زیادہ ضروری ہے کہ تم موت کے اندیشہ میں جیو۔ تم دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں آپ کی حیثیت سردار اور حاکم و آمر اور مطاع، کی تھی۔ مگر وہاں بھی آپ نے یہی بات کہی۔ ابن ہشام نے ہجرت کے واقعات کے تحت ایک عنوان ان لفظوں میں قائم کیا ہے : اول خطبہ خطبہار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ مدینہ کے اس پہلے خطاب میں بھی آپ نے شروع سے آخر تک صرف آخرت کی بات کہی۔ اس خطاب کا متن جو ابن ہشام نے روایت کیا ہے اس کو مکمل طور پر اصل کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہو تاہے کہ مدینہ میں آپ نے لوگوں کے سامنے جس حقیقت کا اعلان کیا ، وہ بھی ہی آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کا خلاصہ آپ کے ان الفاظ میں ہے کہ ــــ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے آخری عمومی خطبہ وہ ہے جس کو خطبہ حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس وقت پورا عرب اسلام کے ماتحت آچکا تھا۔ مگر اس وقت بھی آپ نے اپنے خطاب کا جو انداز اختیار فرمایا، وہ تمام تر آخرت والا انداز تھا۔ خطبہ کے آخر میں آپ نے لوگوں کے سامنے یہ الفاظ دہرائے: الا ھل بلغت (کیا میں نے پہنچا دیا، اس وقت آپ نے یہ نہیں کہا کہ ــــ ھل اقمت الحكومة، هل نفذت الشريعة - یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام کی دعوت میں اول سے آخر تک ساری اہمیت مسئلہ آخرت کی ہے۔ بقیہ تمام چیزیں ذیلی یا اضافی حیثیت رکھتی ہیں۔ سنگین مسئلہ ایک اندھا آدمی چل رہا ہے۔ وہ چلتے چلتے ایک کنویں کے کنارے سے پہنچ گیا۔ اس کا اندیشہ ہے کہ اگر وہ بڑھتا ر ہا تو اگلے لمحہ وہ کنویں کے اندر گر جائے گا۔ اس وقت اس خطرہ سے آگاہ کرنے کے لئے کیا کہا جائے گا۔ علم بلاغت کہتا ہے کہ اس وقت صرف کنواں کنواں (البئر البئر)، کہا جائے گا۔ یہ نابینا اگر ننگے پاؤں ہو تو اس وقت اس کی خیر خواہی یہ نہ ہوگی کہ کوئی شخص اس کے لئے نیا جوتا خرید نے کے لئے بازار کی طرف دوڑے۔ یا اگر اس کے جسم کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوں تو کپڑا لے کر درزی کے یہاں جائے اور ایک جوڑا کپڑا تیار کرنے کا آرڈر دے۔ وہ نابینا اگر بھوک کا پیاسا ہو تو اس وقت اس کے کھانے پینے کا انتظام بھی نہیں کیا جائے گا۔ حتی کہ ایسا بھی نہیں کیا جائے گا کہ اخوت اور شرافت کا مظاہرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page