دعوت حق
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اس قسم کی تمام تحریکیں "بلاغت دعوت" کے خلاف ہیں۔ جس انسان کا معاملہ یہ ہو کہ وہ کامل بربادی (موت) کے کنارہ کھڑا ہوا ہے۔ اس کے حق میں واحد سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ اس کو موت کے بعد آنے والے سنگین خطرہ سے آگاہ کیا جائے۔ جس طرح کنوئیں کے کنارہ کھڑے ہوئے نابینا سے صرف ایک بات کہی جائے گی۔ اس کے سوا کوئی اور دوسری بات کہنا بلاغت کلام کے خلاف ہوگا۔ اسی طرح جس تحریک کے رہنما موت کے مسئلہ سے باخبر ہوں ، ان کے لئے یقیناً سب سے بڑی بات یہی ہوگی۔ وہ ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر کے انسان کو اس خطرہ سے آگاہ کریں گے تاکہ مرنے سے پہلے آدمی اس حقیقت کو جان لے ، وہ دار البقا میں داخل ہونے سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔ سرونسٹن چرچل نے ۱۹۵۴ میں جنگ کے خلاف چیتاونی دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج ساری دنیا جہنم کے کنارے گھوم رہی ہے: The world is roaming around the brim of hell. چرچل کے سامنے تیسری عالمی جنگ کا خطرہ تھا۔ انھوں نے اپنے انتباہ میں "جہنم" کا لفظ مجازی طور پر استعمال کیا تھا۔ مگر ایک باخبر مومن اور داعی کے لئے یہ مجاز نہیں ہے ، بلکہ حقیقت ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ پوری دنیا بھڑکتی ہوئی جہنم کے کنارے کھڑی ہے۔ ہر آن یہ خطرہ ہے کہ کب وہ اس کے اندر گر پڑے۔ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹل سکتا ہے ، مگر جہنم کا خطرہ اتنا یقینی ہے کہ اس سے اللہ کے متقی بندوں کے سوا کوئی بھی مامون ومحفوظ نہیں۔ تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے جو لوگ آگاہ ہیں ، وہ اس کو ٹٹلانے کے لئے رات دن سرگر عمل ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ جہنم کے شدید تر خطرات سے آگاہ ہیں ، ان کو سیکڑوں گنا زیادہ بڑھ کر سرگرم عمل ہونا چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ آدمی کو اگر اس کا احساس ہو جائے تو اس کا دن کا سکون اور رات کی نیند اڑ جائے۔ اس کی نفسیات کے اندر ایک ایسا بھونچال آ جائے کہ وہ چاہنے لگے کہ کاش میرا ہر بال ایک زبان ہوتا اور میں اپنی ساری قوت کو استعمال کر کے ساری دنیا کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کر دیتا۔ دعوت الی اللہ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی الی اللہ (الاحزاب ۴۶) کہا گیا ہے۔ اسی دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader