دعوت حق
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
الی اللہ کو متبین رسول کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے ( یوسف ۱۰۸) یہ دعوت الی اللہ پہلے بھی اہل ایمان کی ذمہ داری تھی، اور اب موجودہ مسلمانوں کی ذمہ داری بھی یہی ہے۔ دعوت الی اللہ حقیقۃً دعوت الی عبادۃ اللہ ہے۔ چنانچہ تمام پیغمبروں نے اپنے مخاطبین سے یہی کہا کہ تم لوگ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو ( ۲۱ / ۱۳ ) عبادت اس کا نام ہے کہ کسی ہستی کو اپنے سے بڑا اور مقدس مان کر اس کے آگے جھکنے والا معاملہ کیا جائے (اصل العبودية الخضوع والتذلل ، لسان العرب ) قرآن میں ہے کہ اللہ نے انسانوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں (وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کی صفت خود انسان کی تخلیق میں شامل ہے۔ وہ خود انسان کی فطرت میں پیوست ہے۔ تاہم عبادت کے سلسلہ میں انسان کا معاملہ وہی ہے جو پیاس کا معاملہ ہے۔ انسان کو پیاس لگتی ہے، وہ پانی پی کر اپنی پیاس بجھاتا ہے۔ اس میں پیاس لگنا ایک فطری معاملہ ہے اور پینا انسان کے اپنے اختیار کا معاملہ۔ پیاس انسان کی فطرت میں اندرونی طور پر شامل ہے۔ پیاس ہر انسان کو ضرور لگتی ہے۔ کوئی آدمی اس کیفیت کو اپنے اندر سے ختم نہیں کر سکتا۔ مگر یہ آدمی کے اپنے اختیار کی بات ہے کہ وہ اپنی پیاس بجھانے کے لئے پانی پئے یا شراب۔ پیاس فطرت کا تقاضا ہے اور پانی یا شراب آدمی کا اپنا اختیار۔ اسی طرح عبادت کا تقاضا ایک فطری تقاضا ہے۔ آدمی اس پر جبر تو نہیں کہ وہ اس تقاضے کو اپنے اندر سے ختم کر دے۔ مگر یہ اس کے اپنے ارادہ اور اختیار کی بات ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے یا اللہ کے سواکسی اور کی۔ آدمی جب اللہ کی عبادت کرتا ہے تو وہ اپنی فطرت کے تقاضے کو صحیح صورت میں ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی جب اللہ کے سواکسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ اپنی فطرت کے تقاضے کو غلط طور پر پورا کرتا ہے۔ سب سے بڑا ظلم قرآن میں حضرت لقمان کی زبان سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم شرک نہ کرو ، کیوں کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے (لا تشرك بالله ان الشرك لظلم عظیم ، لقمان ) ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی اصل جگہ کے بجائے کہیں اور رکھنا ( الظلم : وضع الشيئ في

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader