دعوت حق
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر موضعه، لسان العرب)، جب آدمی ایک اللہ کو مانتا ہے تو وہ اپنی فطرت کے جذبۂ عبودیت کو اس کی جگہ پر رکھتا ہے۔ اور جب وہ اللہ کے سوا کسی اور چیز کو مانتا ہے تو وہ اپنی فطرت میں چھپے ہوئے جذبۂ عبودیت کو اس کی اصل جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے توحید وضع الشیٔ فی موضعه ہے اور شرک وضع الشیٔ فی غیر موضعه)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت کا اصل نشانہ یا اس کا اصل نکتہ کیا ہے۔ ایک لفظ میں وہ یہ ہے کہ انسانیت وضع الشیٔ فی غیر موضعه کی غلطی میں مبتلا ہے۔ اب ہم کو تبلیغ و تلقین کے ذریعہ اسے وضع الشیٔ فی موضعه کے مقام پر لے آنا ہے۔ انسان کے بارے میں یہ بات کہ وہ ایک ”عبادت گزار“ مخلوق ہے، صرف مذہبی عقیدہ کی ایک بات نہیں۔ خود علم الانسان (Anthropology) سے بھی یہی بات خالص علمی انداز میں ثابت ہوئی ہے۔ انسان کے اندر پرستش اور مذہبیت کا جذبہ اتنا زیادہ رچ بس چکا ہوا ہے کہ علماء وقت یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ انسان ایک پرستار حیوان ہے، انسان ایک مذہبی حیوان ہے: Man is a worshipper animal. Man is a religious animal. انسان کی فطرت میں یہ بات آخری حد تک پیوست ہے کہ وہ کسی کو اپنا بڑا بنائے ۔ وہ اپنی ساری توجہ اس کے گرد مرکوز کر دے۔ اس کی پوری شخصیت اس” بڑے “کے گرد گھومنے لگے۔ اس کو پا کر وہ خوش ہو، اس کو کھو کر وہ غمگین ہو جائے۔ وہ اپنے معاملات میں اس پر اعتماد کرے ۔ وہ اسی کی یادوں اور تذکروں میں جینے لگے۔ یہی کسی کو معبود بنانا ہے۔ اور اس معنی میں آدمی کو صرف ایک اللہ کو اپنا معبود بنا نا چاہئے ۔ اللہ کو معبود بنانا اپنے فطری جذبۂ عبودیت کو صحیح استعمال کرنا ہے، اور اللہ کے سوا کسی اور معبود بنانا اپنے فطری جذبۂ عبودیت کو غلط جگہ استعمال کرنا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو دنیا میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جو عبادت گزاری سے خالی ہو۔ کچھ لوگ مظاہر فطرت کا بت بنا کر ان کو پوجتے ہیں (ابراہیم ۳۵) ، کچھ لوگ اپنی محترم شخصیتوں کو معبود کا مقام دے دیتے ہیں (التوبه ۳۱) ، کوئی آدمی خود اپنی ذات کو الہ اور رب کا درجہ دے دیتا ہے (الفرقان ۴۳) حتی کہ حدیث کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader