Urdu book · کاروانِ ملّت

دعوت حق

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

مطابق، ایک مرد اور ایک عورت باہی تعلق سے ایک بچہ پیدا کرتے ہیں اور پھر اس بچے کی کوہ درجہ دیتے ہیں جو رب کا درجہ ہونا چاہئے (ان تولد الامة رببتھا)، اسی طرح ہر ایک کسی نہ کسی چیز کو اپنی زندگی میں بڑائی کا وہ مقام دئے ہوئے ہے جس کو معبود بنایا کہا گیا ہے۔ جولائی ۱۹۹۰ کے آخر میں میں نے سوویت روس کا سفر کیا تھا۔ وہاں میں ۳ اگست تک رہا۔ سوویت روس وہ ملک ہے جہاں ۱۹۱۷ میں کمیونسٹ انقلاب آیا۔ اس کے بعد وہاں خدا کے عقیدہ کا خاتمہ کر دیا گیا۔ تعلیمی نظام، اشاعتی ذرائع ، سماجی سرگرمیاں ، سب کی سب غیر خدائی بنیاد پر قائم کر دی گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہاں سے " خدا " کا مکمل خاتمہ ہو جاتاہے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ عملی طور پر جو چیز پیش آئی وہ صرف یہ تھی کہ سوویت روس نے آسمانی خدا کو چھوڑ کر زمینی شخصیت کو اپنا خدا بنا لیا۔ یہ زمینی شخصیت ان کا لیڈ لینن تھا۔ ماسکو میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہاں اسٹالن ، خروشچوف ، برزنیف ، گورباچوف ، ہر ایک پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ لوگ علی الاعلان ان پر یا دوسرے روسی لیڈروں پر تنقید کرتے ہیں۔ مگر یہاں لینن کی شخصیت ہر تنقید سے بلند سمجھی جاتی ہے۔ یہاں کا ہر آدمی لینن کو بالا تر ہستی کی طرح مقدس سمجھتا ہے۔ سوویت یونین میں لینن کو عظمت و تقدیس کا وہی درجہ دے دیا گیا ہے جو رب ذو الجلال کا ہونا چاہئے ۔ لینن کا جسم مویائی کر کے شیشہ کے کیس میں رکھا ہوا ہے اور مخصوص اوقات میں اہتمام کے ساتھ لوگوں کو اس کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ لینن کی زندگی سے تعلق رکھنے والی ایک ایک چیز کو خصوصی اہمیت کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔ ماسکو میں کریمین کو دیکھتے ہوئے جب میں اس مقام پر پہنچا جہاں لینن کا مقبرہ (Mausoleum) ہے تو میں نے دیکھا کہ وہاں چاروں طرف تعظیم و تقدیس کا غیر معمولی ماحول قائم کیا گیا ہے۔ اسی میں سے ایک یہ ہے کہ مقبرہ کے وسیع گیٹ کے دونوں طرف آمنے سامنے دو مسلح فوجی جوان اس طرح کھڑے ہوئے تھے جیسے ادب و احترام کے غیر معمولی تاثر نے ان کو بے حس و حرکت بنا دیا ہو۔ ابتدا میں نے سمجھا کہ یہ شاید انسانی مورتیاں ہیں۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ یہ دو زندہ فوجی ہیں ، وہ کامل احترام کے مظاہرہ کے طور پر پوری طرح غیر متحرک حالت میں کھڑے رہتے ہیں۔ یہ گویا ایک قسم کی فوجی نماز ہے جو لینن کے سامنے مستقل طور پر ادا کی جارہی ہے۔ چونکہ کوئی زندہ انسان زیادہ دیر تک اس طرح غیر متحرک حالت میں کھڑا نہیں رہ سکتا، اس لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page