Urdu book · کاروانِ ملّت

دعوت حق

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے اندر فطری طور پر پانی، خوراک اور جنسی تعلق وغیرہ کی طلب موجود ہے۔ ان میں سے ہر طلب کو پورا کرنے کا ایک صحیح انداز ہے اور ایک غلط انداز۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ان فطری مانگوں کو پورا کرنے کے لئے صرف صحیح انداز پر پرتائم رہے۔ وہ اپنی فطری مانگوں کو پورا کرنے کے لئے غلط انداز نہ اختیار کرے۔ انسان کی ایک لازمی ضرورت کسب معاش ہے۔ اس کو اپنی ضروریات دنیا کے لئے کمانا ہے۔ اس کسب کے کچھ طریقے حلال ہیں اور کچھ طریقے حرام ۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ صرف حلال طریقوں سے کمائے ، وہ حرام طریقوں سے کمانے کی کوشش نہ کرے۔ انسان جب دنیا میں زندگی گزارنا چاہتا ہے تو بار بار دوسروں سے اس کا سابقہ پڑتا ہے ۔ ان سابقوں میں ایک صدق اور انصاف اور امانت کا طریقہ ہے، اور دوسرا جھوٹ اور بے انصافی اور خیانت کا طریقہ ۔ یہاں آدمی کو چاہئے کہ وہ صدق اور امانت و الا اخلاق اختیار کرے ، وہ جھوٹ اور بے انصافی اور خیانت والے اخلاق سے پر ہیز کرے۔ انسان کے اندر فطری طور پر کچھ جذبات موجود ہیں ۔ مثلا غصہ، انانیت، خود پسندی اور ذاتی بڑائی یہاں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے ان جذبات کو ایک حد کے اندر رکھے۔ انھیں مقرر کی ہوئی حد سے باہر جانے نہ دے۔ اسی طرح زندگی کے ہر معاملے میں ایک طریقہ معیار کے مطابق ہے اور دوسرا طریقہ معیار کے خلاف۔ اللہ تعالیٰ نے ان معیاروں کو وحی کے ذریعہ بتا دیا ہے ۔ اب ہمیں یہ کرنا ہے کہ خود اپنے آپ کو اس معیار پر ڈھالیں ، اور دوسروں کو بھی اسی معیار کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کریں ______ اسی تلقین کا نام دعوت ہے۔ مسلمانوں کا مقام مسلمان ختم نبوت کے بعد مقام نبوت پر ہیں۔ ان کی لازمی ذمہ داری تھی کہ وہ غیر مسلم اقوام کے اوپر اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ مگر وہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مکمل طور پر ناکام رہے ۔ یہ کوئی اتفاقی کوتاہی نہیں۔ اس کا سبب مسلمانوں کا وہ بگڑا ہوا تصور اسلام ہے جو آج تمام دنیا کے مسلمانوں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے میں ایک مثال دوں گا۔ دہلی کے ایک کانفرنس ہال میں ایک مسلم رہنما کی تقریں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page