تعمیر نو کا مسئلہ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
کے معاملہ کو اسی کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ وہ نہ صرف انسانوں میں بلکہ ساری دنیا میں قائم ہے۔ اس اصول کو عام طور پر تعویض (compensation) کا اصول کہا جاتا ہے۔ فطرت میں جب بھی کہیں کوئی کمی واقع ہوتی ہے تو وہ ہیں اس کمی کی تلافی یا تعویض کا عمل بھی جاری ہو جاتا ہے۔ فورا ایسے اسباب حرکت میں آجاتے ہیں جو کمی کی تلافی کر کے سابقہ صورت حال کو دوبارہ بحال کر سکیں۔ کمی کی تلافی (compensation) کا یہ اصول فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ مثلاً اپنے کمرہ میں آپ ہوا نکالنے والا پنکھا (ایگزاسٹ فین) لگائیں تو جب وہ کمرہ کی ہوا باہر نکالے گا تو فوراً ہی باہر کی ہوا کمرہ کے اندر آنا شروع ہو جائے گی تاکہ کمرہ کو دوبارہ ہوا سے پر کر سکے۔ انسان کے جسم میں خون کی مقدار اوسط طور پر اس کے جسم کے وزن کاسات سے آٹھ فیصد حصہ ہوتا ہے۔ اگر کسی حادثہ کی وجہ سے خون کا ایک حصہ نکل جائے تو پورے جسم میں ایہر جنسی کی حالت قائم ہو جاتی ہے تاکہ خون کی مقدار کو جلد از جلد برابر کیا جاسکے (2/1112) حیاتیاتی نظام کی ایک اصطلاح ہے جس کو تعویضی امتداد (compensatory hypertrophy) یا اضافہ برائے تعویض (compensatory growth) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خود کار نظام ہے۔ جسم کے اندر جب بھی کسی قسم کی کوئی کمی واقع ہوتی ہے تو یہ نظام اپنے آپ حرکت میں آجاتا ہے اور جسم کے تمام ذرائع کو استعمال کر کے کم سے کم وقت میں مذکورہ کمی کی تلافی کر دیتا ہے۔ حیوانی جسم کے اکثر اعضاء جوڑے جوڑے کی صورت میں ہیں۔ اگر کسی جوڑے کا ایک عضو ضائع ہو جائے تو باقی رہنے والا عضو جسم میں بڑھنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے استعمال کی بڑھی ہوئی مانگ کو پورا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر انسان کے جسم میں دو گردے ہوتے ہیں۔ اگر ایک گردو کو آپریشن کے ذریعہ نکال لیا جائے تو دوسرے گردے کا حجم اپنے آپ بڑھ جائے گا تاکہ ایک گردہ دو گردوں کا کام کر سکے۔ اس کو تعویضی رد عمل کہا جاتا ہے : Many organs of animals occur in pairs, and if one is lost the remaining member increases in size, as if responding to the demands of increased use. If one of the two kidneys of a human is removed, for example, the other increases in size. This is called a compensatory reaction. (8/442)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader