دعوت حق
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ اس کے مقابلہ میں مثال کے طور پر، کمیونزم کی تحریک ڈھانچہ کو بدلنے کی تحریک ۔ اسلام کی پوری تحریک انسانی شخصیت کو نشانہ بنا کر چلائی جاتی ہے۔ کیوں کہ دنیا اور آخرت دونوں کی تمام کامیابیوں کا انحصار اسی انسانی شخصیت کو بدلنے یا نہ بدلنے پر ہوتا ہے۔ قرآن کی آیت ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم میں اس معاملہ کے دینیوی پہلو کا ذکر ہے۔ یعنی اس دنیا میں کسی انسانی گروہ کی انفرادی حالت (ما بانفس) کی تبدیلی کی بنیاد پر اس گروہ کی اجتماعی حالت (ما بقوم) کی تبدیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ آخرت میں بھی کسی شخص کی ذاتی حالت کی بنیاد پر اس کے انجام کا فیصلہ ہوگا۔ چنانچہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں وہ شخص کامیاب ہوگا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا ، اور وہ شخص ناکام ہوکر رہ جائے گا جس نے اپنے نفس کو گندہ کیا ( قد افلح من زکها وقد خاب من دسھا ) ۔ اسلامی سیاست کے لئے اٹھنے والے یہ لوگ اپنے آپ کو داعی کہتے ہیں۔ اور اپنے کام کو دعوت کا عنوان دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا موجودہ کام دعوت کا قاتل ہے نہ کہ اصل دعوتی کام۔ جو لوگ سیاسی اقتدار کے لئے اٹھیں وہ فوراً فریق ثانی کے لئے حریف بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تحریک ہمیشہ جھگڑا اور ٹکراؤ پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اور جھگڑا اور ٹکراؤ کی فضا جہاں پیدا ہو جائے وہاں دعوت کا کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔ یہی واقعہ موجودہ زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر پیش آیا۔ اسلام کو سیاسی قوت بنانے کی کوشش نے یہ صورت حال پیدا کر دی ہے کہ دوسری قومیں اسلام کو " خطرہ " کے روپ میں دیکھنے لگی ہیں۔ مزید یہ کہ اسلام پسندوں کا یہ نظریہ کہ وہ زور اور قوت کے ذریعہ اسلام کو ساری دنیا میں نافذ کریں گے ، اس نے اہل عالم کی نظر میں اسلام کو تخریب کاری کے ایک نظریہ کی حیثیت دے دی ہے۔ یورپ کے ایک سفر میں ایک مسلمان نے مجھے بتایا کہ اس کی ملاقات یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ تھا : Are you a Muslim? Yes. Then you are a terrorist. پروفیسر کا یہ ریمارک نہ مزاح ہے اور نہ انتہا پسندی ۔ وہ موجودہ صورت حال کا ایک سادہ سا اظہار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader