Urdu book · کاروانِ ملّت

دعوت حق

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

دین رحمت ہے مگر انقلابی اسلام کے ان علمبرداروں نے اس کو دین تخریب بنا دیا ہے۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اسلام کی تخریب میں مصروف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کی تعمیر کے لئے جہاد کبیر کا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہ واقعہ بہت بڑے پیمانہ پر پیش آیا ہے۔ موجودہ مسلمانوں نے ساری دنیا میں ہر قسم کی سرگرمیاں دکھائیں مگر وہ اس اصل کام میں مشغول نہ ہو سکے جس کو قرآن میں انذار آخرت کہا گیا ہے۔ یعنی اس حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرنا کہ موت کے بعد ہر آدمی کو خدا کی میزان میں کھڑا ہونا ہے، اس کے بعد اس کے لئے یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔ مسلمانوں کی اس عظیم کوتاہی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب موجودہ مسلمانوں کی زوال یافتہ نفسیات ہے۔ آدمی جس چیز سے خود ڈرے، اسی چیز سے وہ دوسروں کو بھی ڈرانے کے لئے متحرک ہو گا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان خود آخرت سے بے خوف ہو گئے تھے، ایسی حالت میں وہ دوسروں کو آخرت کا خوف دلانے کے لئے کیوں کرا اٹھتے۔ قرآن کے مطابق ، امتوں پر جب لمبی مدت گزر جاتی ہے تو ان کے اندر رقاوت (الحمید ۱۳) پیدا ہو جاتی ہے۔ قساوت خشیت یا خشوع کا ضد ہے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امت پر ایک وقت آئے گا جب اس سے علم اٹھا لیا جائے گا۔ جبیر تابعی عبادہ بن الصامت سے ملے اور کہا کہ آپ کے بھائی ابو الدرداء کہتے ہیں کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا۔ اور اگر تم سچا ہو تو میں تم کو بتاؤں کہ وہ کون سا علم ہے جو سب سے پہلے اٹھا لیا جائے گا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے جو علم اٹھایا جائے گا وہ خشوع ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم کسی جامع مسجد میں داخل ہو اور وہاں تم ایک بھی خاشع انسان نہ دیکھ سکو (جامع الاصول ۳۶/۸) منتخب امت قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اے ایمان والو ، رکوع اور سجدہ کرو۔ اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چنا ہے۔ اور اس نے دین کے معاملہ میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمہارے باپ ابراہیم کا دین۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا، اس سے پہلے اور اس قرآن میں بھی ، تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ ہو اور تم لوگوں کے اوپر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور اللہ کو مضبوط پکڑو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page