تعمیر نو کا مسئلہ
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی آیت (البقرہ ۲۲۹) میں اذن اللہ سے مراد فطرت کا یہی قانون ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی فطرت اس ڈھنگ پر بنائی ہے کہ جب کسی چیز کو نقصان کا تجربہ ہو تو فوراً وہ اپنی اس کی کو دور کرنے کی طرف متوجہ ہو جائے جس کی بنا پر اس کو یہ نقصان اٹھانا پڑا۔ جو لوگ فطرت کے اس قانون کا اتباع کریں گے وہ بالاخر اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ پالیں گے۔ اسی قانون فطرت کی بنا پر ایسا ہے کہ جب بھی کسی فرد یا قوم کے ساتھ کسی نقصان کا معاملہ ہوتا ہے تو اس کی اندرونی فطرت اس کو یہ رہنمائی دینے لگتی ہے کہ تم اپنی کیوں کی تلافی کرو، اس طرح تم کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ حاصل کر لوگے۔ یہ قانون فطرت اس بات کا ضامن ہے کہ ہر نا کامی میں کامیابی کا پہلو نکل آئے ہر زوال کے اندر وہ اسباب پیدا ہو جائیں جو قوم کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے والے ہوں۔ فطرت کی رہنمائی اب اس قانون کی روشنی میں تاریخ کے مذکورہ دونوں واقعہ کو دیکھئے۔ ہر واقعہ میں آپ کو فطرت کا یہی قانون کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ مثال کے طور پر اہل اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کیا ہوا۔ مکہ میں یہ صورتحال پیش آئی کہ اہل شرک ان کے ظالم بن گئے اور اہل اسلام ان کے مقابلہ میں مظلومیت کی حد پر پہنچ گئے۔ اس کا سبب بنیادی طور پر اہل اسلام کی عددی قلت تھی۔ اس وقت مکہ کی آبادی کی اکثریت شرک پر عقیدہ رکھتی تھی۔ اسی طرح عرب کے تمام قبائل بھی مشرک تھے۔ اس بنا پر اہل مکہ کو ان کی حمایت حاصل رہتی تھی۔ اس عددی فرق نے اہل شرک کو یہ موقع دے دیا کہ وہ اہل توحید کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا سکیں۔ اہل اسلام نے اس وقت اپنی اس کمی کا ادراک کیا۔ چنانچہ انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ مکہ میں بے فائدہ طور پر اہل شرک سے ٹکراؤ کرتے رہیں۔ اس کے بجائے انھوں نے ہجرت کا طریقہ اختیار کر لیا، تاکہ ایک نئے مقام پر جاکر وہاں اپنا دعوتی مرکز بنائیں اور اس طرح عددی اضافہ کے لئے اپنے منصوبہ کو زیرِ عمل لانے کی کوشش کریں۔ یہ دعوتی عمل خاموشی کے ساتھ دس برس تک جاری رہا جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ دس سال کی مسلسل جد وجہد کے نتیجہ میں ایسا ہوا کہ عرب میں عددی تناسب بدل گیا۔ اہل شرک اقلیت بن گئے اور اہل اسلام نے ملک میں اکثریتی طبقہ کی حیثیت حاصل کر لی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader