راہ نجات
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کی مثال لیجیے ۔ اہلِ پاکستان نے دوسری قوم کے ظلم اور تعصب سے بچنے کے لیے علحدگی کی سیاست چلائی ۔ مگر علحدگی کے بعد وہ اور بھی زیادہ ظلم اور تعصب میں پھنس کر رہ گئے ۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان بنا تو پاکستان کے بانی مسٹر محمد علی جناح نے اس کو کٹا پھٹا پاکستان (Truncated Pakistan) قرار دیا۔ یہ کٹا پھٹا پاکستان بھی ۷۱ء میں دو ٹکڑے ہو گیا۔ پاکستان کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ جونا گڑھ، حیدر آباد اور کشمیر، یہ سب پاکستان کے حصے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی وہ حاصل نہ کرسکے، حتی کہ باقاعدہ لڑائی کے بعد بھی نہیں ۔ پاکستان کے قیام کو تقریبا پچاس سال ہو رہے ہیں، مگر آج تک وہاں کوئی متفقہ دستور نہیں بنا۔ کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہوسکی ۔ اس دوران پاکستان کے کئی لیڈر قتل یا ہلاک ہو چکے ہیں ۔ جب بھی ایسا کوئی واقعہ یا اس قسم کا کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو پاکستان کے دانشور فوراً یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ روس یا امریکہ یا بھارت کی سازش کے نتیجہ میں پیش آیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کہہ کر وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان اگرچہ بن گیا، مگر اب بھی کوئی ”مچھلی“ اس کو نگلے ہوئے ہے ۔ اور وہ پاکستان کو ابھرنے نہیں دیتی۔ یہ توجیہ خود پاکستان کی منطق کو غلط ثابت کر رہی ہے۔ مسٹر محمد علی جناح نے کہا تھا کہ میں نے پاکستان کی صورت میں اسلام کا ایک قلعہ بنایا ہے۔ پھر وہ کیسا قلعہ ہے جہاں اسلام کو داخلی حفاظت بھی حاصل نہ ہو ۔ یہ صورتِ حال بے حد غور طلب ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ”قائد اعظم“ کی سیاست، مولانا اشرف علی تھانوی کی دعائیں، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی رہنمائی، مرد مومن ضیاء الحق کا طویل اور مطلق اقتدار، اور اس طرح کی دوسری بہت سی مادی اور معنوی سعادتوں کو حاصل کرنے کے باوجود پاکستان تباہ حال ہے۔ اسلام کا مینار بننا تو درکنار، وہ اسلام کی زیر زمین بنیاد بھی نہ بن سکا ۔ اس کا جواب ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ ، پاکستان خدا کی سنت کے خلاف بنا۔ اور جو چیز خدا کی سنت کی خلاف ورزی کر کے بنائی جائے ، وہ اس دنیا میں کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے رہنما پاکستان کے قیام کو ”ہجرت“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی، پاکستانی مفکرین زور و شور کے ساتھ اس کے حق میں یہ قرآنی دلیل پیش کر رہے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے مطالبہ کیا تھا کہ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِی اِسْرَآئِیْلَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader