راہ نجات
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی ہم کو اجازت دو کہ ہم بنی اسرائیل کو لے کر علیحدہ خطہ میں چلے جائیں۔ اسی طرح ہم بھی انگریزوں اور ہندوؤں سے پاکستان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر یہ استدلال صرف ایک بے جا جسارت ہے۔ کیوں کہ ہجرت، دعوت کے بغیر جائز نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کو علیحدہ خطہ میں لے جانا، یا دوسرے پیغمبروں کا اپنے وطن سے ہجرت کرنا ایک داعیانہ فعل تھا نہ کہ کوئی قومی فعل۔ وہ دعوت الی اللہ کے اگلے مرحلہ کے طور پر لایا گیا نہ کہ قومی اور سیاسی نزاع کے طور پر پیش آیا۔ ہندوستان کی شرعی صورت حال یہ ہے کہ ہندو قوم مسلمانوں کے لیے مدعو قوم کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندو کے سلسلہ میں مسلمانوں کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انھیں اسلام کی دعوت دیں۔ ہندو کی طرف سے پیش آنے والی تمام تلخیوں اور زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے دعوتی عمل کو جاری رکھیں ہندوؤں کی طرف سے بدخواہی کا معاملہ کیا جائے تب بھی وہ آخری حد تک ہندوؤں کے خیر خواہ بنے رہیں، دعوت کا کام جب تک تکمیل یا اتمام حجت کے مرحلہ تک نہ پہنچ جائے۔ اس وقت تک مسلمانوں کے لیے صرف صبر و اعراض ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ تبلیغی جماعت مسلمانوں کے درمیان اصلاح کا کام کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں اس کا طریقہ یہ ہے کہ مخالفین کی طرف سے خواہ کتنا ہی زیادہ برا سلوک کیا جائے، وہ اپنے طے شدہ اصول کے مطابق، یک طرفہ طور پر صبر کے طریقہ پر قائم رہتے ہیں۔ وہ زیادتی کرنے والوں کے حق میں صرف دعا کرتے ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہی یک طرفہ صبر و اعراض کا طریقہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے سلسلہ میں بھی اختیار کرنا ہے۔ موجودہ حالت میں اس کے سوا کوئی بھی دوسری روش مسلمانوں کے لیے جائز نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو دعوت تو نہ دی، البتہ ان کے تمام اصاغر و اکابر نصف صدی سے اس قسم کی دعائیں کرنے میں مشغول ہیں کہ : اللهم أهلك الكفرة والمشركين۔ دعوت سے پہلے مدعو کے خلاف اس قسم کی دعا سراسر سنت الہی کے خلاف ہے، اس لیے وہ ہرگز قبول ہونے والی نہیں، خواہ ہمارے تمام اعاظم و اکابر جمع ہو کر اس دعا پر با آواز بلند آمین کہہ رہے ہوں۔ پاکستان کی تحریک چلانے والوں نے ثابت شدہ طور پر اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader