Urdu book · کاروانِ ملّت

راہ نجات

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے حکم کے مطابق، انہوں نے ہندو قوم کو اسلام کی طرف دعوت نہیں دی اور نہ دعوتی عمل کو تکمیل (اتمام حجت) کے مرحلہ تک پہونچایا۔ اس کے برعکس وہ آغاز ہی میں جغرافی تقسیم کا مطالبہ لے کر کھڑے ہو گئے۔ ایسی تحریک کا یقیني طور پر ہجرت کے شرعی اصول سے کوئی تعلق نہیں۔ کیوں کہ ہجرت ہمیشہ دعوت کے بعد ہوتی ہے ۔ دعوت سے پہلے ہجرت کے طریقہ پر عمل کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔ اس معاملہ میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایک رہنما مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام شہر نینوا (Nineveh) کی طرف بھیجے گئے ۔ یہ قدیم اسیریا کا ایک شہر تھا۔ بائبل کے بیان کے مطابق وہاں کی آبادی ایک لاکھ ۲۰ ہزار رکھتی۔ حضرت یونس علیہ السلام نے اہل نینوا کو توحید کی طرف دعوت دی۔ مگر انہوں نے سرکشی دکھائی۔ ان کی مخالفت اور سرکشی کے باوجود حضرت یونس علیہ السلام نے ان پر دعوتی عمل جاری رکھا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت یونس علیہ السلام نے بطور اجتہاد یہ سمجھا کہ اہل نینوا پر اتمام حجت ہو گیا ہے، اور اب وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اس خیال کے تحت وہ نینوا سے ہجرت کر کے چلے گئے ۔ قرآن میں یہ قصہ مجمل طور پر اور بائبل میں نسبتاً مفصل طور پر موجود ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سمندری سفر کے دوران حضرت یونس کو ایک بڑی مچھلی (غالباً وہیل ) نے نگل لیا۔ وہ کئی ہفتے تک اسی طرح مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ انھیں احساس ہوا کہ ان سے اجتہادی کوتاہی ہو گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں وہ دعا کی جو سورہ الانبیاء (آیت ۸۷) میں موجود ہے۔ بائبل کے مطابق، حضرت یونس نے خداوند اپنے خدا سے کہا کہ میں حمد کرتا ہوں کہ میں اپنی نذریں ادا کروں گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں مچھلی کے پیٹ سے خلاصی عطا فرمائی۔ بائبل میں ہے : ”اور خداوند کا کلام دوسری بار یوناہ پر نازل ہوا کہ اٹھ اس بڑے شہر نینوا کو جا اور وہاں اس بات کی منادی کر جس کا میں تجھے حکم دیتا ہوں۔ تب یوناہ خداوند کے کلام کے مطابق اٹھ کر نینوا کو گیا یوناہ شہر میں داخل ہوا۔ اس نے منادی کی اور کہا کہ چالیس روز کے بعد نینوا برباد ہو جائے گا۔ تب نینوا کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی۔ اور ادنیٰ اور اعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا۔ یہ خبر نینوا کے بادشاہ کو پہونچی۔ وہ اپنے تخت پر سے اٹھا اور بادشاہی لباس کو اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا۔ بادشاہ کے فرمان سے نینوا میں یہ اعلان کیا گیا کہ سب خدا کے حضور گریہ وزاری کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page