Urdu book · کاروانِ ملّت

راہ نجات

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر شخص اپنی بری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے باز آئے ۔ شاید خدا رحم کرے اور اپنا ارادہ بدلے اور اپنے قہر شدید سے باز آئے ۔ اور ہم ہلاک نہ ہوں۔ جب خدا نے ان کی یہ حالت دیکھی کہ وہ اپنی بری روش سے باز آئے تو وہ اس عذاب سے جو اس نے ان پر نازل کرنے کو کہا تھا باز آیا اور اسے نازل نہ کیا (یوناہ) حضرت یونس خدا کے پیغمبر تھے ۔ اس کے باوجود ان کا قبل از وقت اپنی قوم سے ہجرت کرنا خدا کو پسند نہ آیا۔ حتیٰ کہ انھیں دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس آنا پڑا۔ اب کیا پاکستان کے لوگوں کا درجہ پیغمبروں سے بھی زیادہ بڑھا ہوا ہے کہ ان کی بلا سبب اور قبل از وقت ہجرت اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہو جائے اور ان پر رحمتوں کے دروازے کھول دیئے جائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل پاکستان کے لیے نجات کی اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ وہ حضرت یونس کی طرح دوبارہ اپنی ہجرت سے رجوع کریں ۔ جس مدعو قوم کو انھوں نے دعوت کے بغیر چھوڑا تھا، اس کی طرف واپس آکر دوبارہ وہی کام کریں جو حضرت یونس نے کیا ، یعنی انھیں دعوت الی اللہ کا مخاطب بنانا۔ اس کے سوا کوئی دوسرا حل اہل پاکستان کو نجات دینے والا نہیں، خواہ وہ اسلام کے خوشنامام سے کیوں نہ انجام دیا گیا ہو۔ تاہم واپسی کا یہ عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطلوب ہے نہ کہ اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے۔ یعنی اہل پاکستان کو حضرت یونس کی طرح ارضی اور جسمانی واپسی کی ضرورت نہیں۔ ان سے جو واپسی مطلوب ہے وہ فکری اور مزاجی واپسی ہے۔ اہل پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے سابقہ مزاج کو ختم کریں جس کے نتیجہ میں انھوں نے ہندوؤں سے بے جانفرت شروع کر دی، اور جو آج تک ان کے عوام اور ان کے متاندین اور علماء میں آخری حد تک موجود ہے۔ وہ ہندو قوم کو حریف کے بجائے مدعو کی نظر سے دیکھیں۔ وہ ہندو قوم سے عداوت کے بجائے محبت کا طریقہ اختیار کریں۔ ہندو قوم کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں کو یکطرفہ طور پر برداشت کریں۔ ہندو قوم سے اپنے تمام مادی نزاعات کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں، خواہ وہ ان کی اپنی نظر میں کتنے ہی زیادہ اہم کیوں نہ ہوں ۔ حضرت یونس علیہ السلام دوبارہ اللہ کی رحمت کے مستحق اس وقت ہوئے جب کہ انھوں نے اپنی مدعو قوم کی طرف ارضی مراجعت کی۔ اسی طرح اہل پاکستان بھی اللہ کی رحمت کے مستحق صرف اس وقت ہو سکتے ہیں جب کہ وہ اپنی مدعو قوم کی طرف فکری اور جذباتی مراجعت کریں۔ اس کے سوا کوئی بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page