راہ نجات
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری تدبیر پاکستان کو نجات دینے والی نہیں ۔ پاکستان پچھلی نصف صدی سے مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ وہ خارجی مسئلہ سے بچنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر بننے کے بعد وہ شدید تر انداز میں مختلف خارجی اور داخلی مسائل کے اندر گھر گیا۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی واقعہ ہے جو حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی طرح پاکستان آج " مچھلی کے پیٹ " میں ہے ۔ لاینحل مسائل نے اس کو پوری طرح گھیر لیا ہے ۔ اب اس کو حضرت یونس کے انداز میں مراجعت کرنا ہے ۔ اگر اس نے مراجعت کے اصول پر عمل نہ کیا تو وہ قیامت تک اسی طرح ”مچھلی کے پیٹ“ میں پڑا رہے گا ، کوئی بھی دوسری تدبیر اس کو اس قید سے خلاصی دینے والی نہیں ۔ پاکستان کے لوگ پر فخر طور پر پاکستان کو ” مملکت خداداد “ کہتے ہیں ۔ یہ محض خوش فہمی ہے ۔ پاکستان پاکستانیوں کی اپنی خواہش کا منظر ہے نہ کہ خدا کی رضا کا منظر ۔ زیادہ صحیح طور پر پاکستان کا قیام اس قرآنی آیت کی تصویر ہے : وَذَا النُّوْنِ اذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ (الانبیاء (۸۷) قرآن کے مطابق ، برصغیر ہند کے مسلمانوں کا پاکستان کی صورت میں ایک ملک بنا کر الگ ہو جانا ذہاب مغاضب کا واقعہ ہے نہ کہ وہ واقعہ جس کو قرآن میں ذہاب الی الرب (الصافات (۹۹) کہا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ان کے حوصلوں کی تکمیل نہ بن سکا ۔ پاکستان بننے کے فورا بعد اہل پاکستان ”مچھلی کے پیٹ “ میں چلے گیے ، پاکستان کو مسائل کے عفریت نے نگل لیا ۔ قرآن میں صراحتاً یہ بات بتائی گئی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام اگر مراجعت پر راضی نہ ہوتے تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے ، اور انھیں کبھی اس سے نکلنا نصیب نہ ہوتا۔ قرآن کی سورہ نمبر ۳۷ میں ارشاد ہوا ہے : ” اور بے شک یونس رسولوں میں سے تھے ۔ جب کہ وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی پر پہونچے پھر قرعہ ڈالا تو وہی خطا وار نکلے ۔ پھر ان کو مچھلی نے نگل لیا ۔ اور وہ اپنے کو ملامت کر رہے تھے ۔ پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو لوٹوں کے اٹھائے جانے کے دن ( قیامت ) تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے۔ پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا۔ اور وہ اس وقت نڈھال رکھتے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader