تعمیر نو کا مسئلہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد کوئی چیز نہیں تھی جو اہل اسلام کو فتح و غلبہ تک پہنچنے سے روک سکے۔ " اذن اللہ کے تحت پیش آنے والے اس معاملہ کو قرآن میں آخری دور کی ایک سورہ میں ان الفاظ میں ظاہر کیا گیا ہے: اذ اجاء نصر الله والفتح ۔ ورأیت الناس يدخلون فی دین الله افواجا (جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح۔ اور تم دیکھو کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں) اسی طرح صلیبی جنگوں کے بعد یورپی قوموں کے معاملہ کو لیجئے ۔ ان جنگوں میں کامل شکست کے بعد یورپی قوموں کے مدبرین نے غور کیا کہ ہماری اس ذلت آمیز شکست کا سبب کیا ہے۔ وہ اس رائے پر پہنچے کہ مسلمان علم کے میدان میں ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ ہمارے پاس صرف تلوار ہے اور ان کے پاس تلوار اور علم دونوں ہے۔ مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنے پھٹے پرانے پن کو مانتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب تک ہم اس نا برابر بربری کو ختم نہ کریں، ہم مسلمانوں کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتے۔ اس کے بعد مغربی قوموں نے جنگ اور مقابلہ کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ پوری سرگرمی کے ساتھ علم کے حصول میں لگ گئے۔ یہ کوشش کئی سو سال تک مسلسل جاری رہی۔ یہاں تک کہ انھوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے تمام علوم کو سیکھا بلکہ خود علم کو ایک نئے دور ترقی میں پہنچا دیا، انھوں نے تاریخ میں پہلی بار طاقت کے معیار کو بدل دیا۔ اس زمانہ میں لوگوں کے پاس جو علم تھا وہ صرف روایتی علم تھا۔ یورپی قوموں نے علم کے قافلہ کو روایتی دور سے آگے بڑھا کر سائنٹفک دور میں پہنچا دیا۔ انھوں نے دستکاری کی صنعت کو مشینی صنعت میں تبدیل کر دیا۔ فطرت کی دنیا میں جو خزانے اربوں سال سے چھپے ہوئے تھے ان کو انھوں نے نکال کر انھیں انسانی خدمت میں لگا دیا ، وغیرہ۔ مسیحی قوموں نے جب ایسا کیا تو نہ صرف ان کی کمزوریوں کی تلافی ہوئی بلکہ اُن کے ان صحت بخش کارناموں نے ان کو سارے عالم انسانی کا ہیرو بنا دیا۔ شاہراہ سے انحراف اوپر کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ قوموں کی تاریخ میں عام طور پر یہ ملتا ہے کہ جب انہیں کسی کے مقابلہ میں شکست پیش آتی ہے تو ان کی فطرت رہنمائی کرتی ہے۔ شکست کے جلد ہی بعد ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader