راہ نجات
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم نے ان پر ایک بیل دار درخت اگا دیا ۔ اور ہم نے ان کو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔ پھر وہ لوگ ایمان لائے تو ہم نے ان کو فائدہ اٹھانے دیا ایک مدت تک (الصافات ۴۸۔ ۱۳۹) مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کی جس تسبیح کا یہاں ذکر ہے ، وہ ان کی وہ دعا تھی جو سورہ الانبیاء (آیت ۸۷) میں بتائی گئی ہے (لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين) سنت الہی کے مطابق یہ مطلوب تھا کہ قوم کے انحراف اور ایذارسانی کے باوجود آہجناب اپنی قوم کے درمیان ٹھہریں ، یہاں تک کہ تکمیل دعوت کا مرحلہ آ جائے۔ مگر انھوں نے قبل از وقت اپنی قوم کو چھوڑ دیا ۔ مگر ان کے اس عمل نے جب انھیں مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیا تو اس وقت انھیں احساس ہوا کہ مجھ سے کوتاہی ہو گئی۔ یہی احساس تھا جو مذکورہ دعا کی شکل میں ان کی زبان پر جاری ہو گیا۔ وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ ایک سچے داعی کا جذبہ لے کر دوبارہ اپنی قوم کی طرف جائیں ۔ اس کے بعد حکم الہی کے تحت وہ مچھلی کے پیٹ سے باہر آگئے ۔ اور پھر اپنی قوم میں دوبارہ واپس جاکر اللہ کے حکم کی منادی کی ۔ یہی تاریخ اہل پاکستان کو دہرانا ہے ۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں ۔ ہندو قوم کی طرف داعیانہ خیرخواہی کا جذبہ لے کر واپس لوٹیں ۔ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ ہندواور ہندوستان سے اپنے تعلقات کو خوش گوار بنائیں ۔ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو وہ قیامت تک " مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہیں گے ، وہ کبھی اس قید اور مغلوبیت سے نکل نہیں سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader