Urdu book · کاروانِ ملّت

تعمیر نو کا مسئلہ

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر اپنی کمیوں کی تلافی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ یہ عمل جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ قوم اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرلیتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں فرانس، جرمنی، جاپان وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ یہ تو میں دوسری عالمی جنگ میں برباد ہوگئی تھیں۔ مگر جنگ کے فوراً بعد ان کے اندر تلافی کا عمل جاری ہوگیا۔ آج یہ قومیں پہلے سے بھی زیادہ طاقت ور حیثیت حاصل کر چکی ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا معاملہ استثنائی طور پر اس سے الگ ہے۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں دوسری قوموں کے مقابلہ میں شکست سے دوچار ہوئے۔ مگر کئی سو سال کی مدت گزر گئی اور اب تک ان کے اندر قومی پیمانہ پر تلافی مافات کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ اس کا واحد سبب غلط رہنمائی ہے۔ مسلم رہنماؤں نے اپنی غلط رہنمائی سے مسلمانوں کے ذہن کو اس طرح بگاڑ اک وہ اس قابل نہ رہے کہ فطرت کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی میں اپنی تعمیر نو کا کام انجام دیں۔ ایک علامتی واقعہ مولانا حسین احمد مدنی (۱۹۵۷ء - ۱۸۷۹) نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے بتایا ہے کہ علما دیوبند میں ایک ممتاز عالم مولانا شیخ محمد صاحب تھے۔ مولانا کی رائے یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو درکنار موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں“۔ اس موضوع پر غور وفکر کے لئے دیوبند میں اکابر علما کا ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر مولانا قاسم نانوتوی نے نہایت ادب کے ساتھ مولانا شیخ محمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت، کیا وجہ ہے کہ آپ ان دشمنانِ دین ودین پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اسلحہ اور آلات جہاد نہیں ہیں۔ ہم بالکل بے سروسامان ہیں۔ مولانا نانوتوی نے عرض کیا کہ کیا اتنا بھی سامان نہیں ہے جتنا کہ غزوہ بدر میں تھا۔ اس پر مولانا شیخ محمد نے سکوت فرمایا (نقش حیات، جلد دوم ، ۱۹۵۴ء ، صفحہ ۴۰) اس کے بعد علما اور عوام کی ایک جماعت جہاد کے لئے نکلی۔ بشاملی (سہارن پور) کے میدان میں انگریزی فوج سے اس کا مقابلہ ہوا۔ مسلم مجاہدین کے پاس زیادہ تر تلوار اور بھالے تھے اور انگریزوں کے پاس بندوق اور توپ۔ چنانچہ بدترین شکست ہوئی۔ کچھ لوگ مارے گئے، کچھ لوگوں کو انگریزوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page