اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
اور پھر آپ کو کسی سے شکایت باقی نہ رہے گی۔ تخریب نہیں تعمیر دو آدمی ایک دوسرے کے پڑوسی تھے۔ دیوار سے دیوار ملی ہوئی تھی۔ شروع میں دونوں برابر کی حیثیت رکھتے تھے۔ بعد کو ایک خاندان تجارت کرنے لگا۔ دھیرے دھیرے اس نے کافی پیسہ کمالیا۔ اس نے اپنا گھر بھی بڑا بنالیا۔ اس کے بعد ان لوگوں میں غرور آگیا۔ وہ اپنے کو بڑا سمجھنے لگے۔ اب دوسرے خاندان میں ردعمل پیدا ہوا۔ انھوں نے پہلے خاندان کے خلاف تخریب کاری کے منصوبے بنائے۔ انھوں نے طے کیا کہ اس کے سامان میں آگ لگائیں اور اس کے آدمیوں پر گولی اور بم سے حملہ کریں۔ اس دوران ان کی ملاقات ایک تجربہ کار آدمی سے ہوئی۔ اس کو تخریبی منصوبہ کا حال معلوم ہوا۔ اس نے خاندان والوں سے پوچھا کہ تم کیوں ایسا کرنا چاہتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ پہلے ہم دونوں برابر تھے۔ ہماری لکیر بھی ایک فٹ کی تھی اور ان کی لکیر بھی ایک فٹ کی۔ اس کے بعد انھوں نے تجارتیں کیں اور اس کے ذریعہ سے اپنی لکیر کو دو فٹ بنالیا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ان کی لکیر کو کاٹ کر دوبارہ ایک فٹ بنا دیں۔ اس کے بغیر وہ لوگ ہمیں چین سے رہنے نہیں دیں گے۔ تجربہ کار آدمی نے کہا کہ لکیر کو چھوٹا کرنے کا ایک اور طریقہ بھی ہے جو زیادہ یقینی ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں دوسرا کامیاب طریقہ بتائوں۔ انھوں نے کہا کہ بتائیے۔ تجربہ کار آدمی نے کہا کہ وہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی لکیر کو تین فٹ بنالو، اس کے بعد ان کی دو فٹ کی لکیر اپنے آپ چھوٹی ہو جائے گی۔ خاندان والوں نے پوچھا کہ وہ کیسے ۔ تجربہ کار آدمی نے کہا کہ تمھارے پڑوسی نے تجارت کے میدان میں اپنی لکیر کو بڑھایا ہے۔ تم اپنی لکیر کو علم کے میدان میں بڑھالو۔ یہ بات خاندان والوں کی سمجھ میں آگئی۔ ان کے گھر میں ایک درجن چھوٹے بڑے لڑکے تھے سب کو انھوں نے یکسو کر کے تعلیم کے میدان میں لگا دیا ۔ ۲۰ برس کے بعد نقشہ بالکل دوسرا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader