اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ اب اس خاندان میں ہر قسم کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جمع ہوگئے اور دھیرے دھیرے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، آئی اے ایس افسر، ممبر اسمبلی، وغیرہ۔ دوسرے خاندان کی حیثیت پہلے خاندان سے بہت زیادہ بڑھ گئی۔ پہلے خاندان والوں کا سارا غرور اپنے آپ ختم ہوگیا۔ تخریب کاری کے ذریعہ یقینی نہیں تھا کہ دوسرے کی لکیر چھوٹی ہو جاتی۔ اور اگر بالفرض چھوٹی ہوتی تو وہ بھی اس قیمت پر ہوتی کہ پہلے خاندان کی لکیر کبھی مزید چھوٹی ہو چکی ہو گی۔ مگر تعمیر کاری کا طریقہ صد فی صد کامیاب رہا۔ اب کسی بھی قسم کا ذاتی نقصان کئے بغیر دوسرے خاندان کی لکیر اپنے آپ چھوٹی ہوگئی۔ دنیا میں جتنے جھگڑے ہیں، ان سب کا خلاصہ صرف ایک ہے۔ اور وہ دوسرے کی بڑھی ہوئی لکیر کو چھوٹا کرنے کا جنون ہے۔ آج ہر فرد اور ہر گز وہ اسی کوشش میں سرگرم نظر آتا ہے۔ ہر ایک اپنی ساری توجہ اس کام میں لگائے ہوئے کہ وہ دوسرے کی بڑھی ہوئی لکیر کو کسی نہ کسی طرح چھوٹا کر دے۔ تاکہ دونوں کی حیثیت برابر ہوجائے۔ " دوسرے کی لکیر کو چھوٹا کرنا " بجائے خود کوئی برا جذبہ نہیں۔ یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اسی جذبہ کی وجہ سے دنیا میں مقابلہ ومسابقت کی فضا بنتی ہے۔ اسی کی وجہ سے تمام سرگرمیاں ظہور میں آتی ہیں۔ اگر لوگوں میں یہ جذبہ ختم ہو جائے تو دنیا سے تمام سرگرمیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ مگر اس جذبہ کا صحیح استعمال تعمیر کا میدان ہے نہ کہ تخریب کا میدان ۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسرے کی لکیر کو چھوٹا کرنے کی فکر نہ کرے بلکہ اپنی لکیر کو بڑا کرنے میں لگ جائے ۔ اس کے بعد مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد یہ ضرورت نہ ہوگی کہ علیحدہ سے فریق ثانی کی لکیر کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے کی لکیر کو چھوٹا کرنے کے لئے دوڑ نا تخریب کاری ہے، اور اپنی لکیر کو بڑا کرنے کے لئے محنت کرنا تعمیر کاری۔ تخریبی سرگرمیوں سے پورا سماج برباد ہوتا ہے جس کا ایک حصہ خود تخریب کار کو بھی ملتا ہے۔ اس کے برعکس تعمیری سرگرمیوں سے پورا سماج ترقی کرتا ہے، اور دوبارہ اس ترقی کے فوائد مختلف صورتوں میں خود تعمیر کار کو بھی ضرور پہنچتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader