Urdu book · کاروانِ ملّت

تعمیر نو کا مسئلہ

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اپنا قیدی بنالیا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: سوانح قاسمی، ازمولانامناظر احسن گیلانی) یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں جب غیر قوموں نے مسلمانوں کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا تو اس کے بعد وہ کون سا حادثہ پیش آیا جس نے مسلمانوں کی جدید تاریخ کو مسلسل بربادی کی تاریخ بنا دیا۔ وہ دراصل اذن اللہ (قانون فطرت) سے انحراف تھا۔ مذکورہ واقعہ میں مولانا شیخ محمد صاحب گویا فطرت کے ترجمان تھے۔ ان کا شعوری یہ کہہ رہا تھا کہ اس وقت اصل مسئلہ طاقت کی نابرابری کا ہے۔ اس لئے ہمیں سب سے پہلے اس نابرابری کو ختم کرنا چاہئے۔ اس نابرابری کو دور کئے بغیر لڑائی لڑنا صرف خود کشی ہے۔ مگر دوسرے علماء رد عمل کے جذبات سے مغلوب ہو کر اس ضروری پہلو کو بھول گئے۔ وہ جوش میں آکر صرف جنگی اقدام کی باتیں کرنے لگے۔ اس ماحول میں مولانا شیخ محمد صاحب بر سر حق ہونے کے باوجود اکیلے رہ گئے۔ چنانچہ ملت کا قافلہ، غلط رہنمائی کے نتیجہ میں فطرت کی شاہراہ کو چھوڑ کر بے فائدہ ٹکراؤ کی اندھی راہوں میں چل پڑا۔ اس کے بعد اس نے قربانی کی مثالیں تو ضرور قائم کیں، مگر وہ قوم کی تعمیر جدید اور اس کے از سر نو غلبہ کی مثال قائم نہ کر سکے۔ تمجید موت یہاں مسلمانوں کے سلسلہ میں ایک اور عجیب تراشنا سامنے آیا ہے۔ اور وہ ہے مسلسل ہلاکت کے بعد بھی کوئی سبق نہ لینا ۔ دوسری قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ابتدائی رد عمل کے تحت اگر انھوں نے غیر مساوی فریق کے ساتھ جنگ کر لی اور اس کے نتیجہ میں ہلاکت پیش آئی تو قوم فوراً سنبھل گئی۔ اس نے مزید بے فائدہ ٹکراؤ جاری نہیں رکھا۔ مثال کے طور پر ۱۹۸۵ ا میں جاپان کا امریکہ سے ابتدائی ٹکراؤ کے بعد حصول علم میں لگ جانا۔ مگر مسلمان حیرت انگیز طور پر یہ نمونہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ ناقابل بیان ہلاکتوں کے باوجود اپنے رویہ پر نظر ثانی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک ایسا عقیدہ ہے جو دوسری کسی قوم کو حاصل نہیں۔ یہ عقیدہ "شہادت" کا تصور ہے۔ مسلمان کے لئے اپنے عقیدہ کی روسے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہلاکت کو شہادت بتا کر اس کو اپنے کارنامہ کے خانہ میں ڈال سکے۔ موجودہ دور کے مسلم رہنماؤں نے اس عقیدہ کا مبالغہ آمیز حد تک بے جا استعمال کیا۔ وہ مسلمانوں کی ہر ہلاکت کو شہادت بتا کر اس کو گلوریفائی کرتے رہے۔ حتی کہ بذات خود مرٹنے کو مقصودِ عالیٰ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page