Urdu book · کاروانِ ملّت

تعمیر نو کا مسئلہ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

بنا کر پیش کیا۔ مسلمانوں کی مجلسیں ہر طرف اس قسم کے پرجوش ترانوں سے گونج اٹھیں : شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی ناماوی ٹکر آؤ کے بعد مسلمانوں کو جس یک طرفہ ہلاکت کا تجربہ ہوا، اس کے بعد یہ بالکل فطری تھا کہ لوگوں کے اندر نئی سوچ پیدا ہو۔ وہ بے فائدہ تصادم کو چھوڑ کر اپنی مثبت تعمیر میں لگ جائیں۔ مگر موت کو شہادت بنا کر اس کا جو مبالغہ آمیز گلوری فیکیشن (glorification) کیا گیا اس نے مسلمانوں سے یہ ذہن چھین لیا کہ وہ اپنی تباہی کو تباہی سمجھیں اور اس سے سبق لے کر از سر نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ ملت کا قافلہ جو فطرت کی صراط مستقیم سے ہٹ کر تباہی کے راستوں پر چل پڑا تھا وہ بدستور اس پر چلتا رہا۔ اور آج تک اسی رخ پر چلا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنے بگڑے ہوئے ذہن کی بنا پر وہ اپنے اس عمل کو مجاہدانہ قربانی سمجھ رہا ہے نہ کہ احمقانہ ہلاکت۔ ہیروانہ کردار نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان جب کسی سخت حادثہ سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں سخت ہیجان برپا ہوتا ہے۔ علما، نفسیات کے الفاظ میں، اس کے اندر ایک قسم کے دماغی طوفان (brainstorming) کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس وقت عام انسان ایک غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔ ایک غیر معروف آدمی ہیروانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید تاریخ میں یہ واقعہ عملاً پیش آ چکا ہے۔ مغربی قوموں نے جب مسلمانوں سے ان کا سیاسی اقتدار چھینا اور ان کی تہذیبی عظمت کو پامال کیا تو لاکھوں مسلمانوں کے اندر وہی کیفیت شدت کے ساتھ پیدا ہو گئی جس کو نفسیات میں دماغی طوفان کہا جاتا ہے۔ ان میں کا ایک ایک شخص ہیرو کے روپ میں ابھر آیا اور انہوں نے جنگ کے میدان میں غیر معمولی بہادری دکھائی۔ سلطان ٹیپو ۹۹اء میں تن تنہا برٹش سلطنت سے ٹکرا گئے۔ حالانکہ اس وقت یہ ٹکرانا ایسا ہی تھا جیسے چیونٹی کا ہاتھی سے ٹکرانا۔ سید احمد بریلوی کا قافلہ ۱۸۳۱ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں سے بے باکانہ طور پر لڑگیا۔ حالانکہ مہاراجہ کے پاس مقابلہ بہت زیادہ طاقت ور فوج تھی، اور اس کی فوج کو نپولین کے فوجی افسروں نے تربیت دی تھی۔ علما، ہند کی جماعت نے ۱۸۵ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page