Urdu book · کاروانِ ملّت

عمل کا رخ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل کا رخ سوچنے کا عمل (thought process) سب سے بڑا عمل ہے جو انسان کی شخصیت کے اندر واقع ہوتا ہے۔ تمام اعمال اسی سوچ کے تحت انجام پاتے ہیں۔ قدیم فلاسفہ بھی متفرق طور پر اس انسانی ظاہرہ پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں اس موضوع پر مستقل تحقیقات ہوئی ہیں اور بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں : Stuart Hamshire, Thought and Action, 1959 Myles Brand, The Nature of Human Action, 1970 D. Rapaport, Toward a Theory of Thinking, 1951 W.E. Vinacke, The Psychology of Thinking, 1952 D.M. Johnson, The Psychology of Thought and Judgement, 1955 F.C. Bartlett, Thinking, 1958 Max Wertheimer, Productive Thinking, 1959 H. Bergson, The Creative Mind, 1946 N. Berdyaev, The Meaning of the Creative Act, 1955 Arthur Koestler, The Act of Creation, 1964. سوچنے کا یہ عمل عام حالات میں بھی انسان کے دماغ میں برابر جاری رہتا ہے مگر جب انسان کسی اندرونی یا بیرونی حادثہ سے دوچار ہوتا ہے تو یہ عمل بے پناہ حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس وقت آدمی کے اندر ایک سخت ہیجانی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو علماء نفسیات دماغی طوفان (brainstorming) کا نام دیتے ہیں۔ اس فکری ہیجان کے وقت آدمی ایسی باتیں سوچتا ہے جن کو وہ عام حالات میں نہیں سوچ سکتا، وہ ایسے کام کر گزرتا ہے جن کو وہ عام حالات میں نہیں کر سکتا۔ اس قسم کے چیلنج جب آتے ہیں تو وہ آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔ وہ اس کی دماغی قوتوں کو اس طرح جگا دیتے ہیں کہ عام حالات میں اگر اس کا ذہن صرف حل (solution) تک پہنچ سکتا تھا تو اب وہ برتر حل (superior solution) تک پہنچ جاتا ہے (18/357) یہی مشکل حالات آدمی کے اندر وہ انتہائی قیمتی چیز پیدا کرتے ہیں جس کو تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے۔ عام حالات میں آدمی کا ذہن صرف معمول کی باتیں سوچ پاتا ہے۔ غیر معمولی حالات میں آدمی کا ذہن غیر معمولی باتیں سوچنے لگتا ہے۔ اور جب تک یہ غیر معمولی سوچ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page