Urdu book · کاروانِ ملّت

عمل کا رخ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ ابھرنے کوئی آدمی کبھی تخلیقی مفکر نہیں بن سکتا۔ کسی فرد یا کسی قوم کی زندگی میں جب اس قسم کے سنگین لمحات آتے ہیں تو یہ اس فرد یا قوم کے لیے بے حد نازک وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسا تجربہ اس کو بیک وقت دو انتہائی امکانات کے کنارے کھڑا کر دیتا ہے۔ یہ وہ فیصلہ کن وقت ہوتا ہے جب کہ یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ اس کی شخصیت کا موجزن سیلاب کون سا رخ اختیار کرے ـــــ تعمیر کا رخ ، یا تخریب کا رخ ـــــ جذباتی ہیجان کو اگر تعمیر کی سمت میں موڑ دیا جائے تو قوم ترقی کرے گی ۔ اور اگر ان جذبات کو تخریب کی سمت میں موڑ دیا جائے تو پوری قوم تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ جاپان کی مثال انیسویں صدی کے وسط تک جاپان بند ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ صرف ندر لینڈ ایک ایسا ملک تھا جس سے جاپان کے تجارتی تعلقات تھے۔ امریکہ اور برطانیہ اور فرانس نے چاہا کہ جاپان کو ایک کھلا ملک بنائیں اور وہاں داخل ہو کر تجارت کریں۔ مگر جاپان کی حکومت اس کے لیے راضی نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد برطانیہ اور فرانس اور امریکہ نے اپنے جنگی جہاز (warships) جاپان کے ساحل پر پہنچا دیے ۔ یہ جہاز اسٹیم انجن سے چلتے تھے۔ مگر جاپان ابھی تک اسٹیم پاور کو اختیار نہ کر سکا تھا۔ اس وقت جاپان کے پاس دستی ہتھیار تھے اور مغربی قوموں کے پاس دور مار ہتھیار ۔ چنانچہ جاپان نے ابتدائی ٹکراؤ کے بعد ہی جان لیا کہ جنگ میں ہم ان قوموں سے جیت نہیں سکتے ۔ حکومت جاپان نے جلد ہی ٹکراؤ کو ختم کر دیا ۔ جاپانی مفکرین نے اپنی قوم کے ابھرتے ہوئے جذبات کو انتہا پسندی کے بجائے حقیقت پسندی کی طرف موڑ دیا۔ انھوں نے دیکھا کہ اہل مغرب کی بندوقوں کے مقابلہ میں ہماری تلواریں کار آمد نہیں ہیں۔ ہماری چپودوں سے چلنے والی کشتیاں ان کے اسٹیم انجن سے چلنے والے جہازوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ انھوں نے محسوس کیا کہ ان بیرونی قوموں کو فوجی طاقت میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ ان پر واضح ہو گیا کہ بیرونی قوموں کو طاقت کے ذریعہ بھگانا ممکن نہیں (10/78-EB) پہلے ہی تجربہ میں جاپانی رہنماؤں نے اعتراف کر لیا کہ ان کے اور مغرب کے درمیان ایک فیصلہ کن فرق واقع ہو گیا ہے۔ وہ یہ کہ جاپان جسمانی طاقت کے دور میں ہے ، اور مغربی قو میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page