عمل کا رخ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
دماغی طاقت کے دور میں پہنچ گئی ہیں۔ اس لیے پہلا کام اس فرق کو ختم کرنا ہے نہ کہ بے فائدہ طور پر مغربی قوموں سے ٹکراؤ کرنا۔ اس کے بعد انھوں نے مغربی قوموں سے ٹکراؤ کو ختم کرنے کے لیے جاپان کے دروازے کھول دیے ۔ اس تجربہ کے بعد جاپانیوں میں شدید جذبات ابھرے تھے۔ مگر ان کے رہنماؤں نے ان جذبات کو صحیح رخ دیا۔ انھوں نے ٹکراؤ کے میدان سے ہٹ کر علم کے میدان میں اپنی محنت شروع کر دی ۔ اس کے بعد ان کے یہاں تبدیلی کا وہ دور آجا جس کو میجی رسٹوریشن (Meiji restoration) کہا جاتا ہے۔ ٹکراؤ کے میدان سے ہٹنے کا نتیجہ ہوا کہ جاپان کی سائنسی اور صنعتی ترقی شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ وہ جدید ٹکنالوجی کے دور میں پہنچ گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت دوبارہ یہی صورت حال پیدا ہوئی۔ جاپان نے ابتداً امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں سے ٹکر لی۔ مگر ۱۹۴۵ء میں جب امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرائے تو دوبارہ جاپانیوں نے یہ جانا کہ وہ اگرچہ ٹکنالوجی کے دور میں داخل ہو گئے ہیں، مگر امریکہ پر ٹکنالوجی کے دور میں پہنچ چکا ہے۔ جاپانی رہنماؤں نے دوبارہ اپنی قوم کے ابھرتے ہوئے جذبات کو تعمیری رخ دیا۔ انھوں نے بے فائدہ جنگ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا اور از سر نو سائنس کے میدان میں ترقی کرنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ جاپان ایک صنعتی دیو (industrial giant) بن کر دنیا کے نقشہ پر چھا گیا۔ مسلمان دور جدید میں انیسویں اور بیسویں صدی کے مسلمان کم از کم دو بار اس قسم کے شدید حالات سے گزرے جب کہ ان کے اندر شخصی اور قومی سطح پر دماغی طوفان کی مذکورہ بالا کیفیت پیدا ہوئی۔ اب اہم ترین ضرورت تھی کہ ان کو بروقت صحیح رہنمائی ملے۔ مگر دونوں بار مسلم رہنماؤں نے نا قابل فہم حد تک غلط رہنمائی دی۔ اس وقت اصل کام یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر اٹھتے ہوئے فکری طوفان کو تعمیر کی طرف موڑ دیا جائے۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ تمام مسلم رہنماؤں نے انتہائی نادانی کے تحت مسلمانوں کے جذبات کو تخریب کی طرف موڑ دیا۔ اسی غلط رہنمائی کا یہ نتیجہ ہے کہ دو سو سال کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود مسلم ملت کے حصہ میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ اور نہیں آیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader