Urdu book · کاروانِ ملّت

عمل کا رخ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

۳۱ جولائی ۱۹۸۸ کو کشمیر میں جو مسلح تحریک شروع ہوئی وہ بھی اسی غلط رہنمائی کی ایک تازہ مثال ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں کے اندر ان کے حالات کے نتیجہ میں "دماغی طوفان" برپا ہوا تھا۔ اندر اور باہر کے کچھ نادان رہنماؤں نے اس دماغی طوفان کو تخریب کی طرف موڑ دیا۔ اس کے نتیجہ میں کشمیر نے پایا تو کچھ نہیں۔ البتہ اس کے تمام بہترین امکانات ناقابل تلافی حد تک برباد ہو کر رہ گئے۔ کشمیر کے نوجوانوں کے اندر ان کے حالات کے نتیجہ میں جو دماغی طوفان ابھرا تھا اس کو اگر حقیقی معنوں میں تعمیر کی طرف موڑ دیا جاتا تو ان کا سارا جوش مثبت تیاریوں میں استعمال ہو نے لگتا۔ وہ کشمیر کی قدرتی حسن کی دنیا میں انسانی ترقیوں کا ایک چمنستان اگاتے۔ اور پھر کشمیر میں تعمیری انقلاب کی ایک ایسی دنیا ابھرتی جو اس کو حقیقی معنوں میں برصغیر ہند کا تاج بنا دیتی۔ اسلام ایک ابدی مذہب ہے۔ اس میں ہر قسم کے حالات کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ چنانچہ اس معاملہ میں بھی اسلام کی تعلیمات اور اس کی تاریخ میں واضح رہنمائی موجود تھی مگر موجودہ مسلم قائدین کا المیہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کو اپنے لیے فخر تو بنایا، مگر وہ اس کو اپنے لیے رہنمائی نہ بنا سکے۔ اور جب دین کو سامانِ فخر بنا لیا جائے تو وہ سامان ہدایت کی حیثیت سے اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ قدیم مکہ میں جب رسول اور اصحابِ رسول نے توحید کی دعوت دی تو اہل مکہ کی طرف سے شدید ترین مزاحمت کی جانے لگی۔ اہل مکہ کی زیادتیوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں نے اہل اسلام کے اندر " دماغی طوفان " کی حالت پیدا کر دی۔ اپنے ابتدائی تاثر کے تحت وہ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فکری ہیجان کو تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم سب لوگ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جاؤ اور اس کو اسلامی مرکز بنا کر وہاں اپنا دعوتی کام کرو۔ حدیبیہ کے موقع پر بھی یہی صورت حال پیش آئی۔ اہل مکہ کی ضد اور اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں دوبارہ صحابہ کے اندر " دماغی طوفان " اٹھا۔ اس کے زیر اثر وہ اہل مکہ سے لڑنے پر آمادہ ہو گئے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان کے جذبات کو تخریب سے تعمیر کی طرف موڑ دیا، صحابہ کے جوش و خروش کو جنگ کے بجائے دعوت کے میدان میں مصروف عمل کر دیا۔ اللہ کا یہ عجیب معاملہ ہے کہ اس نے مشکلات کو ہمارے لیے مزید ترقی کا زینہ بنا دیا۔ اس نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page