عمل کا رخ
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی قدرت خاص سے ہمارے نہیں کو ہمارے سے میں تبدیل کر دیا۔ چیلنج کا جواب انگریز مورخ ٹوئن بی (Arnold Toynbee) نے عالمی تاریخ کے گہرے مطالعے کے بعد اپنی مشہور کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) لکھی، جو ۱۲ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ ٹوئن بی کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ چیلنج اور اس کا جواب (Challenge-response) میکانزم وہ چیز ہے جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ ٹوئن بی کے مطابق، خارجی چیلنج ہی وہ لازمی عل ہے جو افراد یا قوموں کے امکانات کو جگا دیتا ہے۔ تہذیب کا ابتدائی اور بنیادی مرحلہ ماحول کے ایسے چیلنج سے ظہور میں آتا ہے جو نہ اتنا سخت ہو کہ ترقی کو روک دے ، نہ اتنا موافق ہو کہ وہ تخلیقیت کو معطل کر دے۔ قوم کی ایک تخلیقی اقلیت اس چیلنج کا جواب دیتی ہے اور قوم کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے : The initial stage of a civilization is its growth, brought about by an environmental challenge, neither too severe to stifle progress nor too favourable to inhibit creativity, which finds a response among a creative minority that provides leadership to the passive majority. (X/76) اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کی مصیبتیں (troubles) لوگوں کی صلاحیتوں کو جگاتی ہیں بشرطیکہ وہ اتنی زیادہ نہ ہوں کہ آدمی اس کے نیچے دب کر رہ جائے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مومن سب سے زیادہ تخلیقی انسان ثابت ہو سکتا ہے، کیوں کہ مومن کے اندر سہنے اور تاب لانے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ عام انسان صرف اپنے آپ میں عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ صرف اپنی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے دوسری طرف مومن کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ خدائے برتر میں عقیدہ رکھتا ہے اور خدا کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ انسان کی قوتیں محدود ہیں، خدا کی قوتیں لامحدود۔ اس بنا پر عام انسان کے لئے کسی نہ کسی مقام پر حد آ جاتی ہے۔ جب کہ مومن کے لئے کبھی حد نہیں آتی۔ جہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader