Urdu book · کاروانِ ملّت

عمل کا رخ

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کی اپنی حد ختم ہو جائے، وہاں اس کا خدا اس کی کمی کی تلافی کے لئے موجود ہوتا ہے۔ مومن دوسروں کے مقابلہ میں مصیبت اور مشکلات کو زیادہ برداشت کر سکتا ہے۔ اس لئے وہ دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ تخلیقی ثابت ہوتا ہے۔ مصیبتیں کیوں آدمی کو تخلیقی بناتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصیبتیں انسان کے دماغ کے اجزاء (particles) کو جگاتی ہیں۔ وہ اس کی خوابیدگی کو بیداری بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آدمی کے اوپر مشکلات آتی ہیں تو اس کی سوچنے اور کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس واقعہ کے پیش نظر یہ کہنا صحیح ہے کہ عام انسان کے دماغ کے اجزاء صرف محدود طور پر جاگتے ہیں۔ جب کہ مومن کے دماغ کے اجزاء لامحدود طور پر جاگ اٹھتے ہیں۔ عام انسان کی تخلیقیت کی ایک حد ہے، مگر مومن کی تخلیقیت کی کوئی حد نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے (الطلاق (۳) ارشاد ہوا ہے کہ تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ اللہ سے ڈرو ( المائدہ ۳) اسی طرح فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو، اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا ( الاحزاب ۷۰، ۷۱) اس قسم کی آیتوں کا مطالعہ کیجئے، اور پھر فطرت کے مذکورہ قانون کو سامنے رکھئے تو اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل ایمان پر جب بھی مشکلات و مصائب کا لمحہ آئے تو اس وقت جو ضروری کام کرنا ہے وہ یہ کہ ان کے اندر اعتماد علی اللہ کی کیفیت کو ابھار آجائے۔ اللہ پر توکل اور اعتماد ان کے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرے گا۔ اور جن لوگوں کے اندر سہارے اور برداشت کرنے کی صفت ابھر آئے وہ مشکلات کے وقت ہیرو بن جاتے ہیں۔ وہ مشکلات کو اپنے لئے نفسیاتی ٹانک بنا لیتے ہیں۔ اس دنیا میں مشکل کا پیش آنا بذات خود کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مشکل پیش آنے کے وقت آدمی اس کو سہارے کی طاقت کھودے۔ اس لئے مشکل پیش آنے کے وقت شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ بلکہ یہ کوشش کرنا چاہئے کہ آدمی کے اندر سہارے اور برداشت کرنے کی طاقت جاگ اٹھے۔ مشکل کے وقت آدمی اگر پست ہمت ہونے سے بچ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page