عمل کا رخ
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت کے مطابق لازماً ایسا ہونا چاہیئے کہ موجودہ حالات میں اگر کچھ باتیں ہمارے خلاف ہوں ، تو اسی کے ساتھ کچھ باتیں ہمارے موافق بھی ہوں۔ قرآن کے لفظوں میں ، عسر کے ساتھ یسر بھی ہو۔ مگر آپ سب لوگوں نے صرف غیر موافق باتوں (عسر) کا اعلان کیا۔ آپ میں سے کسی نے موافق باتوں (یسر) کا انکشاف نہیں کیا۔ اس طرح آپ نے قرآن کے ایک جز ء کا تو خوب ذکر کیا ، مگر قرآن کے دوسرے جز ء کو آپ نے یکسر حذف کر دیا۔ یہودی یا اور کوئی فرقہ اگر قرآن کا ایسا نسخہ چھاپے جس میں قرآن کی ایک آیت کو نکال دیا گیا ہو تو ساری دنیا کے مسلمان اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے سرگرم ہو جائیں گے۔ مگر خود مسلمان عملاً یہی کام کر رہے ہیں۔ آج ہر جگہ کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ "عسر" کے واقعات کا خوب چرچا کرتے ہیں ، مگر وہ "یسر" کے پہلوؤں کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔ دوسرے لوگ اگر قرآن میں کمی بیشی کریں تو مسلمان اس کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مگر خود مسلمان یہی کام زیادہ بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں تو اس کا غلط ہونا کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ لوگ قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں مگر وہ قرآن سے بے خبر ہیں۔ لوگ اپنے جلسوں کا آغاز قرآن سے کرتے ہیں، مگر وہ صرف رسمی تبرک کے لئے ہوتا ہے نہ کہ اس سے رہنمائی لینے کے لئے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے چرچا کے باوجود قرآن کا فائدہ لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ قرآن بلاشبہ قوموں کو اٹھانے والی کتاب ہے۔ مگر قرآن کا یہ معجزہ اس قوم کے حق میں ظاہر ہوتا ہے جو قرآن کو اپنا رہنما بنائے نہ کہ ان لوگوں کے لئے جو قرآن کے الفاظ خوش الحانی کے ساتھ دہرائیں اور اس کے بعد اس کو بند کر کے طاق پر رکھ دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader