خیر امت
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
خیرامت عام تصور یہ ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم خیر امت کے مقام پر فائز ہیں۔ وہ تمام قوموں میں سب سے بہتر قوم کا درجہ رکھتے ہیں۔ اسی خیال کو مولانا الطاف حسین حالی نے ان لفظوں میں نظم کیا ہے : وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا مگر اس میں ایک غلط فہمی شامل ہے۔ خیر امت کا لفظ کوئی قومی لقب نہیں ہے، بلکہ وہ صفت کو بتاتا ہے۔ یعنی خیر امت مسلمانوں کا قومی یا نسلی امتیاز نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جو لوگ یہ مطلوبہ صفات اپنے اندر پیدا کریں گے وہ اللہ کے نزدیک خیر امت قرار پائیں گے۔ عن قتادة عن عمر فى قوله تعالى كنتم قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے آیت اکتم خيرا مة، انه تلا هذه الآية ثم قال يا خير امة، پڑھی اور پھر کہا کہ اے لوگو، جو شخص ايها الناس من سره ان يكون فى الامة اس خیر امت میں ہونے کی خوشی حاصل کرنا چاہتا التي اخرجت للناس فليؤد شرط الله فيها۔ ہے تو وہ اس کے لئے خدا کی شرط کو پورا کرے ۔ ( التفسیر المظہری ۲ / ۱۱۸ ) خیر امت کا مطلب اب اس آیت پر غور کیجئے جس میں خیر امت کا لفظ آیا ہے۔ كنتم خير ا مة اخرجت للناس تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا تأمرون بالمعروف وتنهون عن ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے المنكر وتؤمنون بالله ( آل عمران ۱۱۰ ) ہو۔ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔ مفسر ابن کثیر نے خیر امت کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے ہیں ؛ یعنی خیر الناس للناس۔ والمعنى انهم خير الامم وانفع الناس للناس ) یعنی وہ لوگوں کے لئے سب لوگوں سے بہتر ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب امتوں میں بہتر ہیں اور لوگوں کے لئے سب سے زیادہ نافع ہیں ) گویا وہ خیر امت اس لئے ہیں کہ وہ خیر یا نافعیت کی صفت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ وہ لوگو ں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader