خیر امت
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے بالفعل خیر بننے سے خیر امت بنے ہیں نہ کہ مجرد ایک نسلی گروہ میں شامل ہونے سے۔ یہ الفاظ ابتدا ً اصحاب رسول کے لئے اترے۔ جب وہ اپنے عملی اوصاف کے اعتبار سے بطور واقعہ بہتر گروہ بن گئے تو، ہجرت کے بعد اس واقعہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ تم خیر امت ہو۔ اصحاب رسول کے بعد دوسرے اہل ایمان خیر امت میں شامل کئے جانے کے مستحق اس وقت ہوں گے جب کہ وہ عملی اعتبار سے ان اوصاف پر قائم ہو جائیں۔ اصحاب رسول خیر امت کا ماڈل ہیں۔ جو شخص خیر امت میں شامل ہونا چاہے وہ اس ماڈل کو اپنی زندگی میں اپنائے۔ منصب شہادت آیت میں ”خیر امت “ کا منصب یہ بتایا گیا ہے کہ انھیں لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ( اخر جت للناس ) یعنی اس کا ایک مشن ہے جس کو اسے اقوام عالم کے اوپر انجام دینا ہے۔ یہ مقررہ مشن قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے جو دوسرے مقام پر ان الفاظ میں آیا ہے : و كذلك جعلنا كم امة وسطاً لتكونوا اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم شهداء علی الناس ويكون الرسول لوگوں کے اوپر گواہ بنو اور رسول تمہارے اوپر عليكم شهيداً (البقرة ۱۳۳) گواہ ہو۔ امت وسط سے مراد امت عدل ہے۔ اس سے مراد تقریباً وہی ہے جس کے لئے دوسری جگہ خیر امت کا لفظ آیا ہے۔ دونوں لفظ ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو بتاتے ہیں۔ یعنی یہ امت اپنے قول وعمل کے اعتبار سے عدل پر قائم ہوگی، اور چونکہ وہ عدل پر قائم ہوگی، اس لئے وہ اہل عالم کے لئے سرا پا خیر بن جائے گی۔ شہادت (گواہی) سے مراد خدا کے بندوں کو خدا کی مرضی سے باخبر کرنا ہے۔ اسی باخبری پر قیامت میں لوگوں سے ان کے کارنامہ حیات کا حساب لیا جانے والا ہے۔ تمام انسان خدا کے آگے مسئول ( جواب دہ) ہیں۔ مگر یہ مسئولیت اسی وقت صحیح ہوسکتی ہے جب انھیں اصل حقیقت سے باخبر کر دیا گیا ہو۔ اس لئے اللہ تعالی نے دنیا میں شہادت (دعوت) کا نظام قائم کیا تاکہ اس کی بنیاد پر آخرت میں لوگوں سے باز پرس کی جاسکے۔ دنیا میں شہادت دینے والے ہی آخرت کے شاہد ہیں (ق ۲۱) ، دنیا میں جو لوگ قوموں کو باخبر کرنے کی ذمہ داری ادا کریں گے، وہی قیامت کے دن خدا کی عدالت میں کھڑے ہو کر یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader