خیر امت
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
گواہی دیں گے کہ کس نے حق کے پیغام کو مانا اور وہ کون لوگ ہیں جنھوں نے اس کا انکار کر دیا۔ یہی وہ خاص مقصد ہے جس کے لئے امت محمدی کا "اخراج" ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اپنے زمانے کے لوگوں پر شہادت کی ذمہ داری ادا فرمائی ، اسی طرح بعد کے تمام زمانوں میں آپ کی امت کو لوگوں کے اوپر شہادت کا فرض ادا کرنا ہے۔ شہادت کا خاص مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس تخلیقی منصوبہ سے باخبر کیا جائے جس کے تحت اللہ تعالی نے اس کو پیدا کر کے اس زمین پر آباد کیا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کے عرصہ حیات کا بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں رکھا اور بقیہ تمام حصہ موت کے بعد آنے والی کامل دنیا میں رکھ دیا۔ اللہ تعالی نے فیصلہ کیا کہ انسان کے لئے موت سے پہلے کی زندگی آزمائش کی زندگی ہوگی اور موت کے بعد کی زندگی انجام پانے کی زندگی۔ موجودہ دنیا کے عمل کے مطابق ، بعد کی دنیا میں کسی کو جنت میں جگہ ملے گی اور کسی کو جہنم میں۔ موت سے پہلے کی دنیا میں آدمی کو مکمل آزادی ہے۔ اسی آزادی کے معاملہ میں انسان کا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔ جو شخص آزادی اور اختیار کے باوجود حق کے آگے جھک گیا ، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اور جو شخص آزادی اور اختیار پا کر بہک گیا اور سرکشی کا طریقہ اختیار کیا وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ پہلے انسان کے لئے آخرت میں خدا کا انعام ہے اور دوسرے انسان کے لئے آخرت میں خدا کی سزا۔ اللہ تعالی کا یہ منصوبہ اور اس کی تمام ضروری تفصیلات قرآن اور حدیث میں بتا دی گئی ہیں۔ اہل اسلام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے گہرے مطالعہ سے اس حقیقت کو سمجھیں اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو اقوام عالم تک پہنچائیں۔ پیغام رسانی کے اس عمل کا کامل نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے۔ اسی نمونہ کی پیروی کرتے ہوئے مسلمانوں کو یہ کام انجام دینا ہے ، اس کے بعد ہی وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں شہادت کا انعام پا سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader