Urdu book · کاروانِ ملّت

خیر امت

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

امر بالمعروف ، نہی عن المنکر خیر امت کی بابت مذکورہ آیت میں کہا گیا ہے کہ تم معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو، تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر ، اس سے مراد داخلی نصیحت اور اندرونی احتساب کا وہ نظام ہے جو امت اپنے دائرہ کے اندر قائم کرتی ہے۔ امت کا ہر فرد نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرتا ہے بلکہ وہ امت کے دوسرے لوگوں کے لئے ناصح اور نگراں بن جاتا ہے، تاکہ امت برابر خیر کی حالت پر قائم رہے۔ افراد امت کی یہی اسپرٹ امت کو خیر امت بنائے رکھنے کی اصل ضمانت ہے۔ اس بات کو سورۃ کی دوسری آیت میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: ولتكن منكم امة يدعون الى الخير اور تم میں سے ایک گروہ ہونا چاہئے جو نیکی کی ويأمرون بالمعروف وينهون عن طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے المنكر واولئك هم المفلحون روکے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ( آل عمران ۱۰۴ ) اس آیت میں مسلمانوں کے اندر جس مطلوب گروہ کی ضرورت بتائی گئی۔ ہے وہ داخلی مصلحین کا گروہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم ملت کو ایمانی کمزوری، داخلی انتشار اور باہمی بے انصافی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں یہ مزاج موجود ہو کہ وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں پر ٹوکیں ۔ وہ ایک دوسرے کی اصلاح پر کمر بستہ رہیں۔ ہر آدمی یا کم از کم ایک گروہ ، اپنے آپ کو دوسروں کا نگراں سمجھے۔ اس کے بغیر سلمان " خیرامت" کے مطلوبہ معیار پر باقی نہیں رہ سکتے ۔ شہادت علی الناس اس امت کا منصبی مشن ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس امت کا تربیتی نظام۔ شریعت میں جو احکام ہیں ان میں سے ہر حکم کے لیے الگ الگ الفاظ ہیں۔ کسی حکم کے لیے صلوٰۃ کا لفظ ہے اور کسی حکم کے لیے صوم کا ۔ کسی حکم کے لیے زکوٰۃ کا لفظ آیا ہے اور کسی حکم کے لیے حج کا ، وغیرہ ۔ اسی طرح ایک حکم وہ ہے جس کے لیے قرآن و حدیث میں الامر بالمعروف والنہی عن المنکر کے الفاظ آئے ہیں ۔ یعنی اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنا ۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ مسلمان کے اوپر لازم ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے ، طاقت ہو تو ہاتھ سے۔ ہاتھ سے نہ کر سکے تو زبان سے ، اور زبان سے نہ کر سکے تو دل سے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page