Urdu book · کاروانِ ملّت

خیر امت

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ حکم دراصل مسلمانوں کی باہمی اصلاح کے لیے آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے اوپر نگر ان بن جائے ۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اس کا حق نہ دے تو قریب کے مسلمان اس پر زور ڈال کر اس کو حق دار کا حق دینے پر مجبور کریں۔ ایک مسلمان ظالمانہ روش اختیار کرے تو اس کے آس پاس جو مسلمان ہیں وہ سب مل کر اس کے پیچھے پڑ جائیں اور اس کو ظلم و سرکشی کا رویہ چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔ یہ کام اپنی استطاعت کے بقدر کرنا ہے ۔ ہاتھ سے ممکن ہو تو ہاتھ سے، ورنہ زبان سے، اور نہ زبان سے ممکن نہ ہو تو آخری درجہ یہ ہے کہ دل سے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اسی خاص نوعیت کی بنا پر قرآن میں اس کے لیے مشارکت کے صینے آئے ہیں ، یعنی ایسا صیغہ جس میں آپس میں ایک دوسرے کے اندر کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہو۔ مثلاً ائتمار بالمعروف (واتمروا بینکم بمعروف، الطلاق 6) اور تناہی عن المنکر (کانوا لا يتناهون عن منكر فعلونه، المائدہ ۷۹) مسلمانوں کی اصلاح معاشرہ کے لیے یہی اصل کام ہے جو مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس حکم کا مطلب یہ کہ مسلمان کے اندر اپنے بھائی کی مدد کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ جہاں کوئی مسلمان حق کے خلاف چلتا ہو نظر آئے فوراً اس علاقہ کے مسلمان ایسے مسلمان سے ملیں ، وہ ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت کریں ۔ وہ ہر شخص کے معاملہ میں دخل دے کر اس کو حق پر قائم رہنے اور ناحق کو چھوڑنے پر مجبور کر دیں۔ یہ حقیقتہً ایک سماجی کام ہے نہ کہ کوئی حکومتی کام ۔ ایمان بالله آیت کے آخر میں فرمایا کہ تؤمنون بالله (تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو) یہ تمام مطلوب باتوں کی کلید اور اس کی بنیاد ہے۔ اللہ پر ایمان لانا تمام حقیقتوں کے اصل سرے کو پالینا ہے۔ اور جو آدمی حقیقت کے سرے کو پالے اس نے گویا سب کچھ پالیا۔ اسی سے ان اعمال کا صدور ہو سکتا ہے جو ایک صاحب ایمان کے اندر باعتبار معیار ہونا چاہئے۔ بخاری ومسلم نے ایک حدیث ان الفاظ میں نقل کی ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اتدرون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان رکھنا کیا ہے۔ لوگوں نے کہا ما الايمان بالله وحده۔ قالوا الله ورسوله

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page