Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ اگر کسی آیت یا حدیث میں قتال یا اس کے ہم معنی لفظ مل جائے تو اس کو اپنے حق میں کافی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ کسی کلام میں قتال یا اس کے ہم معنی کسی لفظ کا آجا نا اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ اس سے مراد شمشیری جنگ ہے۔ بعض اوقات کلام میں شدت پیدا کرنے کے لئے بھی قتال کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک معاملہ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا۔ حضرت عمر کا انداز شدید ہو گیا تو حضرت ابو بکر نے فرمایا : اتحاربنی یا ابن الخطاب (اے خطاب کے بیٹے ، کیا تم مجھ سے جنگ کروگے) حضرت ابو بکر کے اس قول (اتحاربنی) سے مراد نیزہ اور تلوار کی جنگ نہیں ہے۔ یہاں دراصل حضرت عمر کے انداز کے خلاف شدت اظہار کے لئے حرب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کلام کا یہ اسلوب ہر زبان میں رائج ہے۔ علمی وفکری جنگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد، الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔ ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں : عن عمران بن حصین قال ، قال رسول عمران بن حصین کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفة وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے من امتی یقاتلون علی الحق ظاهرین لئے لڑتا رہے گا ، وہ ان پر غالب رہے گا جوان علی من خالفهم حتی یقاتل آخرهم سے دشمنی کرے گا ، یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ المسیح الدجال مسیح دجال سے جنگ کرے گا۔ بعض لوگ اس حدیث سے جنگ کا مسئلہ نکالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر زمانہ میں مخالفین سے جنگ کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ان حضرات کے اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ اس حدیث میں "قتال" کا لفظ آیا ہے۔ مگر یہاں قتال سے مراد ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فکری اور نظریاتی مقابلہ ہے چنانچہ محدثین نے اس روایت میں قتال سے یہی مراد لیا ہے۔ صحیح البخاری میں ”کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة“ کے تحت جو ابواب ہیں ، ان میں سے ایک باب کے تحت امام بخاری نے مذکورہ مفہوم کی دو روایتیں نقل کی ہیں۔ اس کا ترجمہ باب انھوں نے ان الفاظ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page