اسلامی جہاد
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
میں قائم کیا ہے ــــ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بیان میں کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہتے ہوئے جنگ کرتا رہے گا ، اور وہ اہل علم ہیں ( باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین علی الحق يقاتلون وهم اهل العلم)، اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ حدیث میں قتال کا لفظ ، امام بخاری کے نزدیک، مجازی معنوں میں ہے، وہ حقیقی معنوں میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں قتال سے انھوں نے علما ء کی جد و جہد کو مراد لیا ہے۔ حافظ ابن حجر العسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے ، ان کی مخالفت کرنے والا ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گا ( قاہرین لعدوهم لا يضرهم من خالفهم). حافظ ابن حجر نے علی بن المدینی کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد علماء، حدیث ہیں ( هم اصحاب الحديث)، اسی طرح انھوں نے امام احمد بن حنبل کا قول اس حدیث کی تشریح میں نقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے مراد اگر علماء حدیث نہیں تو مجھ کو نہیں معلوم کہ اور کون لوگ اس سے مراد ہیں (ان لم يكونوا اهل الحديث فلا ادری من هم) فتح الباری، جز ء ۱۳ ، القاهره ۱۳۴۸ھ ، صفحہ ۲۵۰ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں قتال کا لفظ مقابلہ یا مجاہدہ کے مفہوم میں ہے۔ ایسے مواقع پر قتال یا جنگ کا لفظ مفہوم میں شدت پیدا کرنے کے لئے آتا ہے نہ کہ اپنے ظاہری لغوی مفہوم میں۔ ایک اخبار نویس کا انتقال ہوا تو اس کے حالات کے تحت لکھا گیا کہ ــــ " وہ ساری عمر فرقہ واریت سے لڑتے رہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں لڑنے کا لفظ قلعی جد و جہد کے معنی میں ہے نہ کہ حربی ٹکر اؤ کے معنی میں۔ مذکورہ حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ کہ امت محمدی کبھی علما ء حق سے خالی نہیں ہوگی۔ اس میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہیں گے جو دین کا صحیح علم رکھتے ہوں ، اپنی زبان و قلم سے اس کا اعلان کریں۔ اور جو لوگ دین کے تصور کو بگاڑیں ، ان سے فکری مقابلہ کر کے ان کا غلط ہونا ثابت کریں۔ یہ صورتِ حال جاری رہے گی یہاں تک کہ قیامت آچلے۔ جہاد و قتال سے مراد اصلاً اور اولاً یہی فکری جد و جہد ہے۔ تشدد یا نہ جنگ تو بہت بعد کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader