Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

آتی ہے، اور وہ بھی بطور دفاع نہ کہ بطوراقتدام۔ اعلاء کلمۃ اللہ سورہ التوبہ میں ہجرت کے واقعہ کو یاد دلاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب مکہ کے منکرین نے پیغمبر کو مکہ سے نکال دیا۔ جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ جب پیغمبر اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ نے اپنی سکینت اس کے اوپر اتاری اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔ اور اللہ نے منکروں کا کلمہ نیچا کر دیا اور اللہ کا کلمہ ہی اونچا ہے۔ اور اللہ عزیز و حکیم ہے (التوبہ ۴۰) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ انکار کرنے والوں کے کلمہ سے مراد شرک ہے اور کلمتہ اللہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے (قال ابن عباس : یعنی بكلمة الذين كفروا الشرك وكلمة الله هي لا اله الا الله ، تفسير ابن كثير ۲/ ۳۵۸) اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : عن ابي موسیٰ قال - جاء رجل الى النبی صلی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک اللہ عليه وسلم فقال الرجل يقاتل للمغنم شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا والرجل يقاتل للذكر و الرجل يقاتل کہ کوئی آدمی مال کے لئے لڑتا ہے۔ کوئی آدمی شہرت لیرى مكانه فمن في سبيل الله، فقال: کے لئے لڑتا ہے۔ کوئی آدمی اس لئے لڑتا ہے تاکہ اس من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو کو ممتاز مقام حاصل ہو۔ ان میں سے کون اللہ کے راستہ في سبيل الله (متفق عليه) میں لڑنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ جو اس لئے لڑے کہ اللہ کا کلمہ ہی بلند و کلمہ ہو جائے ۔ اس آیت، اور اس حدیث میں اعلاء کلمتہ اللہ سے مراد اعلاء کلمہ ہے نہ کہ اقامت نظام۔ یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ نظریہ پیشرک فکری حیثیت سے دب جائے اور نظریہ توحید فکری حیثیت سے بالا و برتر ہو جائے ۔ فکری غلبہ کا یہ واقعہ اصلاً فکری جد و جہد کے ذریعہ ہوتا ہے۔ دلائل کے میدان میں توحید کو شرک کے اوپر غالب کیا جاتا ہے۔ تاہم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل دلیل کے میدان میں مغلوب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page