اسلامی جہاد
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
ہونے کے بعد جارحیت کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ وہ اہل حق کے اوپر ہتھیاروں کے ذریعہ حملہ کر دیتے ہیں۔ اس وقت اہل حق کو اپنے اور حق کے دفاع میں جوابی کارروائی کرنی پڑتی ہے۔ خود ساختہ تعبیر موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے جہاد فی سبیل اللہ کو جہاد سیاسی کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ مثلاً "جہاد فی سبیل اللہ" نامی ایک کتاب میں جہاد کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے : " اسلامی جہاد کا مقصود غیر اسلامی نظام کی حکومت کو مٹا کر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ اسلام یہ انقلاب صرف ایک ملک یا چند ملکوں میں نہیں بلکہ تمام دنیا میں برپا کرنا چاہتا ہے۔ اگر چہ ابتداً مسلم پارٹی کے ارکان کا فرض یہی ہے کہ جہاں جہاں وہ رہتے ہوں وہاں کے نظام حکومت میں انقلاب پیدا کریں۔ لیکن ان کی آخری منزل مقصود ایک عالم گیر انقلاب کے سوا کچھ نہیں (مسلم پارٹی ہر جگہ ) لڑ کر غیر اسلامی حکومتوں کو مٹا دے گی اور ان کی جگہ اسلامی حکومت قائم کرے گی (۲۲ - ۲۳) اسلامی جہاد کا یہ تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ سارے قرآن میں کوئی ایک آیت بھی ایسی موجود نہیں جس کے براہ راست مفہوم کے طور پر سیاسی انقلاب کا یہ نظریہ برآمد ہوتا ہو۔ مذکورہ کتاب میں اس نظریہ کے حق میں جو دلائل" دئے گئے ہیں، وہ سب انشا پردازی کی نوعیت کے ہیں۔ کچھ آیتیں اور حدیثیں پیش کی گئی ہیں۔ مگر وہ سب اصل مسئلہ سے غیر متعلق ہیں۔ حتیٰ کہ ایک کو چھوڑ کر کسی آیت یا حدیث میں جہاد کا صیغہ تک موجود نہیں۔ نقل کردہ آیتوں میں صرف ایک آیت ایسی ہے جس میں يجاهدوا باموالهم وانفسهم کا لفظ آیا ہے۔ یہ سورہ التوبہ کی آیت ۴۱ ہے۔ مگر اس آیت میں مذکورہ نظریہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں۔ یہاں دشمنانِ اسلام کی جارحیت کے مقابلہ میں دفاعی جنگ لڑنے کے لئے نکلنے کا ذکر ہے۔ "مکمل نظام قائم کرنے کے لئے جہاد کرو" اس قسم کے نام نہاد انقلابی نظریہ کا ذکر نہ اس آیت میں ہے اور نہ قرآن کی کسی دوسری آیت میں۔ اصل بات حذف اس نظریہ جہاد کا غلط ہونا اسی سے ثابت ہے کہ وہ پورے دین سے ٹکرایا جاتا ہے۔ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں پورے دین کا نقشہ بگڑ جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے اس نظریہ جہاد کے مشہور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader