Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

ترین وکیل کا اقتباس دیکھیے : " یہیں سے یہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ کسی ملک پر اسلامی نظام کی حکومت قائم ہو جانے کی صورت میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہوگی جو کسی دوسرے عقیدہ و مسلک کے متبع ہوں۔ اسلام کا جہاد لوگوں کے عقیدہ و مسلک اور ان کے طریق عبادت یا قوانین معاشرت سے تعرض نہیں کرتا۔ وہ ان کو پوری آزادی دیتا ہے کہ جس عقیدہ پر چاہیں قائم رہیں اور جس مسلک پر چاہیں چلیں۔ البتہ وہ ان کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کہ ان کی خاطر کسی ایسے طریقہ پر حکومت کا نظام چلایا جائے جو اسلام کی نگاہ میں فاسد ہے۔ نیز وہ ان کے اس حق کو بھی نہیں مانتا کہ وہ معاملات کے ان طریقوں کو اسلامی نظام حکومت میں جاری رکھیں جو اسلام کے نزدیک اجتماعی فلاح کے لئے مہلک ہیں مثلاً اسود، چوری، جوا، وغیرہ ) جہاد فی سبیل اللہ ، صفحہ ۲۵-۲۶ اس نظریہ جہاد کے مطابق ، اسلامی جہاد لوگوں کے عقیدہ اور عبادت سے کوئی تعرض نہیں کرتا۔ اس کا سارا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اوپر اسلام کے اجتماعی اور سیاسی قانون کی حکومت قائم ہو جائے ۔ یہ سراسر ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ اس میں جہاد کا اصل مقصد حذف ہو گیا ہے ، اور جہاد کا جو مقصد سارے قرآن و حدیث میں کہیں مذکور نہیں ، وہی اس کا اصل مقصد قرار دیا گیا ہے۔ سورہ الفرقان میں توحید ( آیت ۴ ) ، اور اللہ کی عبادت (آیت ۵۵ ) کا ذکر ہے اور توحید اور عبادت کی اس دعوت کے خلاف منکرین جو شبہات پھیلا رہے تھے ، ان کو دلائل سے رد کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے کہ قرآن کے ذریعہ سے ان کے اوپر جہاد (کبیر ۵۲) کرو ۔ یہاں واضح طور پر جہاد سے مراد وہ عمل ہے جو توحید اور عبادت الٰہی کی تبلیغ کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی دوسری بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں جو دعوت توحید کے عمل کو جہاد کا عمل بتاتی ہیں۔ جب کہ قرآن اور حدیث کے پورے ذخیرے میں کوئی بھی آیت یا حدیث موجود نہیں جس میں مذکورہ نوعیت کے سیاسی عمل کو جہاد قرار دیا گیا ہو۔ جہاد کا مذکورہ نظریہ در اصل جہاد کی سیاسی تعبیر ہے۔ اس میں جہاد کا تصور بنیادی طور پر بدل جاتا ہے اور دین کا پورا نقشہ تلپٹ ہو جاتا ہے۔ دین میں اصل اہمیت تواضع کی نفسیات کی ہے ، مگر جہاد کا مذکورہ نظریہ اس کے برعکس ، سرکشی کی نفسیات پیدا کر دیتا ہے۔ اس میں دین کا روحانی پہلو غائب ہو جاتا ہے اور سیاسی پہلو غیر متناسب طور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page