اسلامی جہاد
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
پر ابھرتا ہے۔ جن لوگوں کا مزاج اس نظریہ کے تحت بنتا ہے، ان کی نظر میں داخلی احتساب سے ہٹ جاتی ہیں اور ساری توجہ خارجی احتساب کی طرف چلی جاتی ہیں۔ ایسا آدمی اپنے مزاج کے مطابق اپنی ذات پر لفظی تنقید بھی برداشت نہیں کرے گا، اور دوسروں کے اوپر گولی اور بم کی بارش کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھے گا۔ تعمیری میدان میں سرگرم ہونا اس کو غیر اہم نظر آئے گا البتہ تخریب کے پروگرام سے اس کو بہت زیادہ دل چسپی ہوگی۔ اسلام یہ مزاج دیتا ہے کہ اہل ایمان دوسرے بندگانِ خدا سے محبت کریں، وہ ان کی زیادتیوں کے باوجود ان کے لئے دعائیں کریں۔ مگر مذکورہ قسم کے سیاسی مجاہدین کا حال یہ ہوگا کہ ان کے پاس دوسروں کے لئے صرف نفرت ہوگی۔ وہ دوسروں کو بد دعا دینے والے ہوں گے نہ کہ ان کے حق میں دعا کرنے والے۔ ناقص استدلال یہ انقلابی نظریہ ساز اپنے نظریہ کے حق میں قرآن کی جو آیتیں پیش کرتے ہیں، ان کی حیثیت محض بے جا جسارت کی ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں کا ان کے " انقلابی نظریہ " سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً مذکورہ کتاب (جہاد فی سبیل اللہ) کا ایک حوالہ یہ ہے: " اسلامی دعوت عالمگیر اور کلی انقلاب کی دعوت تھی۔ اس نے پکار کر کہا کہ ان الحکم الا اللہ۔ یعنی حکومت سوائے خدا کے اور کسی کی نہیں ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذات خود انسانوں کا حکمراں بن جائے اور اپنے اختیار سے جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہے روک دے۔ کسی انسان کو بالذات امر و نہی کا مالک سمجھنا در اصل خدائی میں اسے شریک کرنا ہے اور دنیا میں یہی اصل بنائے فساد ہے۔" ۱۲ - ۱۳ اس اقتباس میں قرآن کی آیت (ان الحکم الا اللہ) کو اپنے انقلابی نظریہ کے حق میں بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ مگر اس آیت کا مذکورہ نظریہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان الحکم الا اللہ کا فقرہ قرآن میں تین جگہ (انعام ، ۵ ، یوسف ۴۰، یوسف ۷ ) آیا ہے۔ تینوں مقامات پر واضح طور پر وہ فوق الطبیعی حکم کے معنی میں ہے، وہ ہر گز سیاسی حکم کے معنی میں نہیں۔ قرآن کی اس آیت کو کوئی ایسا شخص ہی مذکورہ انقلابی اور سیاسی مفہوم میں لے سکتا ہے جو خدا کی کتاب کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو۔ اسی طرح اس سیاسی نظریہ کے ایک حامی اس سیاسی نظریہ کے حق میں شہادت کی آیت (لتكونوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader