Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

شہداء علی الناس) پیش کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ امت محمدی کو سارے عالم کے سامنے دین حق کی گواہی دینا ہے۔ یہ گواہی مکمل دین کی ہونی چاہئے۔ اس لئے امت پر لازم ہے کہ وہ دین کے پورے نظام کو عملاً زمین پر قائم کرے تاکہ دنیا کے سامنے تمام دینی احکام اور پورے دینی نظام کا مظاہرہ ہو سکے۔ اس مکمل عملی مظاہرہ کے بعد ہی لوگوں کے اوپر خدا کے دین کی حجت پوری ہو سکتی ہے اور امت محمدی قیامت میں یہ کہہ سکتی ہے کہ اس کو جو دین ملا تھا، اس کو اس نے خدا کے بندوں تک پہنچادیا۔ یہ سارا استدلال خود ساختہ مفروضہ پر قائم ہے۔ امت محمدی کو جو شہادت دینا ہے اس کا قانونی نظام اور سیاسی اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ اس شہادت کا تعلق دین کے فکری اور تصوراتی پہلو سے ہے نہ کہ دین کے عملی نظام سے۔ اگر مکمل عملی نظام کے مظاہرہ کو ضروری قرار دیا جائے تو کسی بھی پیغمبر نے کبھی کامل شہادت نہیں دی اور نہ اپنی قوموں پر اتمام حجت کیا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ کسی بھی نبی نے مکمل عملی نظام قائم نہیں کیا۔ حتی کہ پیغمبر اسلام کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق پیغمبر اسلام نے مکہ کے لوگوں پر اتمام حجت کی حد تک شہادت کا کام انجام دے دیا۔ اس کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت فرمائی۔ مگر، جیسا کہ معلوم ہے، مکہ میں صرف فکری تبلیغ کا کام ہوا ، وہاں کے منکروں کے سامنے کبھی مکمل عملی نظام پیش نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت کا کام تمام تر ایک فکری پیغام رسانی کا کام ہے۔ اس کام کے لئے مزید جو چیز درکار ہے، وہ مکمل عملی نظام کا مظاہرہ نہیں۔ بلکہ داعی کا اخلاص ہے۔ داعی کو یہ کام اس طرح کرنا ہے کہ وہ آخری حد تک مدعو کا خیر خواہ ہو۔ وہ نفع اور امانت کے جذبے کے تحت یہ کام کرے۔ وہ حرص کی حد تک مدعو کی ہدایت کا طالب گار بن گیا ہو۔ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کی اذیتوں کو سہے. وہ مدعو کے ظلم و سرکشی کے باوجود اس کے لئے نیک دعائیں کرے ۔ جہاد کی مختلف صورتیں قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کا تعلق صرف جنگ کے میدان سے نہیں ہے، بلکہ زندگی کے ہر میدان اور ہر سرگرمی سے اس کا تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں یہاں قرآن و حدیث سے چند حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ ۱۔ قرآن میں ہے کہ جو لوگ ہمارے واسطہ مجاہدہ کریں گے ان کو ہم ضرور اپنے راستے دکھائیں گے (الذین جاهدوا فینا لنهدينهم سبلنا ، العنكبوت) اس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ جو لوگ ہماری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page