Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

طلب میں مجاہدہ کریں گے ان کو ہم اپنی طرف پہنچنے کے راستے دکھائیں گے (الذین جاهدوا فی طلبنا لنهدینهم سبل الوصول الینا، تفسیر النسفی) اس آیت میں جہاد کا لفظ اس جدوجہد کے لئے استعمال ہوا ہے جو آدمی خدا کو پانے کے لئے روحانی سطح پر کرتا ہے۔ یہ جہاد ابتدا ً تلاشِ حق کی صورت میں آدمی کے اندر ظاہر ہوتا ہے اور اس کے بعد ساری عمر زیادہ سے زیادہ معرفت رب حاصل کرنے اور تعلق باللہ کو بڑھانے کے لئے جاری رہتا ہے۔ ۲۔ جہاد کا سب سے بڑا محاذ جو آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے، وہ خود اپنے نفس کا محاذ ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے اللہ کی اطاعت کے لئے لڑے (المجاهد من جاهد نفسه فى طاعة الله) دوسری حدیث میں ہے کہ اپنی خواہشوں سے جہاد کرو جس طرح تم اپنے دشمنوں سے لڑتے ہو (جاهـدوا اهواءكم كما تجاهدون اعداءكم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار دشمنوں سے مقابلہ کے بعد واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد کے بعد اب بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں (رجعنا من الجهاد الأصغر الى الجهاد الأكبر) موجودہ دنیا میں ہر وقت اصول اسلام اور خواہش نفس کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں آدمی کو اصول اسلام کا حامی بن کر اپنی خواہشِ نفس سے لڑنا ہے اور اسے زیر کرنا ہے یہ سب سے زیادہ عام جہاد ہے اور وہ بلا شبہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ یہ اپنے نفس کو کنٹرول کرنا اور اپنی خواہشوں پر روک لگانے کا جہاد ہے۔ اس جہاد کے بغیر کسی آدمی کے لئے خدا پرستی کی زندگی پر قائم رہنا ممکن نہیں۔ ۳۔ الترمذی ، ابو داؤد اور الدارمی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ کو یمن کا حاکم بن کر بھیجا۔ بھیجتے ہوئے آپ نے ان سے پوچھا کہ کوئی معاملہ پیش آئے تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ میں کتاب اللہ کے ذریعہ فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم کتاب اللہ میں نہ پاؤ تو تم کیا کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں اللہ کے رسول کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کے رسول کی سنت میں بھی نہ پاؤ۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں اپنی رائے پر محنت کروں گا اور اس میں کمی نہیں کروں گا (اجتهد رأيي ولا آلو، ۲/ ۱۱۳۰

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page