اسلامی جہاد
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث میں جہاد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہو کہ کسی معاملہ میں شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لئے مطالعہ اور غور وفکر میں محنت کرنا بھی جہاد ہے۔ یہ عمل کا وہی میدان ہے جس کو دوسری حدیث میں تففق فی الدین کہا گیا ہے۔ ۴۔ حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مشرکوں سے جہاد کرو اپنے مال سے اور جان سے اور زبان سے (جاهدوا المشركين باموالكم وانفسكم والسنتکم ، مشکوۃ المصابیح (۱۱۲۲/۲ اہل اسلام کا غیر اہل اسلام کے ساتھ جہاد ( مقابلہ ) بنیادی طور پر فکر کے میدان میں پیش آتا ہے۔ وہ اسلام کے فکر کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں تاکہ ان کا غیر اسلامی فکر دنیا میں اونچا رہے۔ اس مقابلہ میں اہل اسلام کو کبھی مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ کبھی زبان سے ان کی باتوں کا توڑ کرنا پڑتا ہے۔ کبھی تقاضا ہوتا ہے کہ پوری جسمانی طاقت کو اس راہ میں لگا دیا جائے ۔ اس قسم کی ہر کوشش مذکورہ حدیث کے مطابق جہاد کی فہرست میں داخل ہے۔ ۵۔ عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے آپ سے جہاد کی اجازت مانگی۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں۔ اس نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تم انھیں میں جہاد کرو ( جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستأذنه في الجهاد فقال احتى والداك - قال نعم - قال ففيهما فجاهد ، متفق علیه ، ۱۱۲۳/۲ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ماں باپ کی خدمت کرنا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بھی جہاد ہے۔ بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنے میں جو فیقیاتی یا جسمانی مشقت اٹھانی پڑتی ہے وہ سب اللہ کے یہاں جہاد کا عمل قرار پائے گی ۔ ۶ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ عورتوں کا جہاد حج کرنا ہے ( قالت استأذنت النبی صلی الله عليه وسلم في الجهاد - فقال : جهاد كن الحج ، متفق عليه، ۷۳/۲ اس سے معلوم ہوا کہ ایک عورت حج کے سفر میں اور جہاد کی ادائیگی میں جو مشقت اٹھاتی ہے۔ اس کے لئے وہی جہاد کا عمل بن جاتا ہے ۔ حج روحانیت کو بڑھانے والا عمل ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہا جاسکتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader