اسلامی جہاد
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اپنے اندر روحانیت اور رہبانیت کو بڑھانے کے لئے جو محنت کی جائے وہ بھی اللہ کے نزدیک جہاد کی نوعیت کا عمل شمار ہوگا۔ ۷۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اے نبی، تم منکرین کے اوپر قرآن کے ذریعہ جہاد کرو، بڑا جہاد (وجاهد هم به جهاد اكبر ، الفرقان ۵۲) ظاہر ہے کہ قرآن کوئی تلوار نہیں ہے، وہ ایک کتاب ہے جس میں اسلام کی تعلیمات درج ہیں۔ قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ تبلیغ قرآن کے عمل میں محنت کرو۔ یہ جہاد اللہ کی نظر میں اتنا اہم ہے کہ اس کو جہاد کبیر کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فکری پیغام رسانی کا کام نہ صرف جہاد ہے بلکہ وہ تمام جہادوں سے بڑا ہے، وہ جہاد کبیر کا درجہ رکھتا ہے۔ ۸۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو، تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا۔ وہ ایمان والوں کے لئے نرم اور انکار کرنے والوں کے اوپر سخت ہوں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے (المائدہ ۵۲) ایک سماج جہاں لوگوں کے اندر غیر اسلامی مزاج ہو، جہاں غیر اسلامی طریقے رائج ہو گئے ہوں ، وہاں اسلام کے مطابق بولنا اور اسلامی اصولوں کے مطابق چلنا بے حد مشکل کام ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام کو اختیار کرنے والا آدمی پورے ماحول میں اجنبی بن جاتا ہے۔ اس کو ہر طرف سے ملامت کے الفاظ سننے پڑتے ہیں۔ اس بنا پر اس کو بھی جہاد کہا گیا ہے۔ ملامت کو سہتے ہوئے کوئی کام کرنا اس دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ ملامت اور اجنبیت کے اس ماحول میں بے باک انداز میں اسلام پر قائم رہنا بلاشبہ بہت بڑا جہاد ہے۔ مجاہد انہ جذبہ کے بغیر کوئی شخص ایسے ماحول میں اصول اسلام پر قائم نہیں رہ سکتا۔ ۹۔ قرآن میں اگرچہ جہاد یا جہد کا مادہ چالیس سے زیادہ بار استعمال ہوا ہے۔ مگر سارے قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میں جہاد کا لفظ خاصہ صرف جنگ کے معنی میں آیا ہو۔ قرآن میں کہیں بھی "جاهدوا" كالفظ "قاتلوا" کے مرادف کے طور پر استعمال نہیں ہوا ہے۔ قرآن میں جب خاصۂ صرف جنگ کا حکم بتانا ہو تو وہاں قتال کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader